پلوٹو کا درجہ گھٹانے پر تنازع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پلوٹو کا درجہ گھٹانے کے فیصلے پر ماہرین فلکیات میں شدید بحث مباحثہ شروع ہو گیا ہے۔ جمعرات کو ماہرین فلکیات کے ایک اجلاس میں پلوٹو کو سیاروں کی فہرست سے نکال کر نسبتاً چھوٹا سیارہ یا سیارچہ قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ لیکن ناسا میں پلوٹو پر روبوٹ مشن بھیجنے کی مہموں کی نگرانی کرنے والے ایک سرکردہ سائنسداں نے اس فیصلے کو پیچیدہ اور باعثِ خفت ہے۔ پلوٹو کو سیارچہ قرار دینے کا فیصلہ ایک نئی تعریف کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور اس تعریف پر نظرثانی کے لیئے قائم کی جانے والی کمیٹی کے اجلاس کے صدر کا کہنا ہے کہ پلوٹو کو سیارچہ قرار دینے کی تعریف کا فیصلہ کرنے والے اجلاس کو انتہائی موثر انداز سے ’ہائی جیک‘ کر لیا گیا تھا۔ سیاروں کی نئی تعریف پر رائے شماری انٹرنیشنل آسٹرونومیکل یونین یا عالمی انجمن برائے ماہرین فلکیات کے پراگ میں ہونے والے دس روزہ اجلاس میں کے آخری دن کیا گیا۔ یہ تنظیم 1919 سے سیاروں کے لیئے نام تجویز کرنے کی مجاز ہے۔ پراگ میں جس روز تعریف متعین کی گئی اس روز کے اجلاس میں صرف چار سو چوبیس ماہرین شریک ہوئے تھے۔ پراگ اجلاس میں جو ابتدائی تجویز پیش کی گئی اس میں تین نئے سیاروں کو نظامِ شمشی کا حصہ بنانے کے لیئے کہا گیا تھا جس کی ماہرین نے شدید مخالفت کی۔ جس کے بعد چار علیحدہ تجاویز پیش کی گئیں۔ ان تجاویز کے بعد سائنسدانوں نے وہ تاریخ ساز رہنما اصول وضع کیئے جن کی بنیاد پر پلوٹو کو ثانوی درجے کا ایک سیارچے قرار دیا گیا۔
امریکی خلائی ادارے میں پلوٹو کے لیئے نیو ہورائیزن مشن کے سربراہ ڈّاکٹر ایلن سٹرن کا کہنا ہے کہ ’سیاروں کی یہ تعریف گھٹیا اور یہ ناقص سائنسی روّیئے کا نتیجہ ہے اور اس کی توثیق کسی بھی ایسے اجلاس میں نہیں ہو سکتی جو اس نوع کے فیصلوں کے معیار کا ہو۔ ڈاکٹر سٹرن نے پراگ کے اس اجلاس میں شریک نہیں تھے جس میں سیاروں کی وہ متنازع تعریف کی منظوری دی گئی جس کی بناء پر پلوٹو کو کمتر درجے کا سیارہ قرار دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر سٹرن اس تعریف ہر اعتراض کرتے ہیں کہ ’اول تو سیارچوں اور سیاروں کے درمیان کوئی ایک ایسی حد قائم نہیں کی جا سکتی جو انہیں الگ الگ کرے اور اسگر ایسا کیا ہی جائے تو یہ ایسا ہی ہو گا جیسے ہم انسانوں کو اپنی من مانی وجوہ کی بنا پر انسان قرار نہ دیں اور کہیں کہ کچھ لوگ اس لیئے انسان نہیں ہیں کہ وہ گروہوں میں رہتے ہیں۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اصل تعریف اس سے بھی کہیں زیادہ خراب ہے کیونکہ وہ غیر مستحکم اور بے اصولی پر مبنی ہے۔ سیارہ قرار دیئے جانے کے لیئے جو ایک شرط اہم قرار دی گئی ہے یہ ہے کہ سیارہ اپنے مدار میں آنے والی رکاوٹوں کو کششِ ثقل کی بنا پر آگے دھکیل سکتا ہو لیکن پلاٹو کا بیضوی مدار نیپچوں کےمدار کے اوپر سے گزرتا ہے اور اسی لیئے پلاٹو سیارہ نہیں ہے۔ لیکن ڈاکٹر سٹرن کہتے ہیں کہ زمین، مریخ، مشتری اور نیپچوں بھی تو اپنے مدار کے علاقوں کو پوری صاف نہیں کرتے ہیں۔ اگر وہ سیارے ہیں تو پالٹو کیوں نہیں؟ |
اسی بارے میں نیلا اور سرخ قریب تر05.09.2003 | صفحۂ اول مریخ زمین سے قریب تر27 August, 2003 | صفحۂ اول زھرہ پر زندگی؟26.09.2002 | صفحۂ اول مریخ پر آبادکاری: خواب یا حقیقت؟29.05.2002 | صفحۂ اول مریخ پر زندگی؟27.05.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||