BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 August, 2006, 15:41 GMT 20:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پلوٹو کا درجہ گھٹانے پر تنازع
پلوٹو
پلوٹو کے کم از کم تین چاند ہیں اور اس کی کشش زمین کی کشش کے چھ فیصد کے ساوی ہے
پلوٹو کا درجہ گھٹانے کے فیصلے پر ماہرین فلکیات میں شدید بحث مباحثہ شروع ہو گیا ہے۔

جمعرات کو ماہرین فلکیات کے ایک اجلاس میں پلوٹو کو سیاروں کی فہرست سے نکال کر نسبتاً چھوٹا سیارہ یا سیارچہ قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

لیکن ناسا میں پلوٹو پر روبوٹ مشن بھیجنے کی مہموں کی نگرانی کرنے والے ایک سرکردہ سائنسداں نے اس فیصلے کو پیچیدہ اور باعثِ خفت ہے۔

پلوٹو کو سیارچہ قرار دینے کا فیصلہ ایک نئی تعریف کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور اس تعریف پر نظرثانی کے لیئے قائم کی جانے والی کمیٹی کے اجلاس کے صدر کا کہنا ہے کہ پلوٹو کو سیارچہ قرار دینے کی تعریف کا فیصلہ کرنے والے اجلاس کو انتہائی موثر انداز سے ’ہائی جیک‘ کر لیا گیا تھا۔

سیاروں کی نئی تعریف پر رائے شماری انٹرنیشنل آسٹرونومیکل یونین یا عالمی انجمن برائے ماہرین فلکیات کے پراگ میں ہونے والے دس روزہ اجلاس میں کے آخری دن کیا گیا۔ یہ تنظیم 1919 سے سیاروں کے لیئے نام تجویز کرنے کی مجاز ہے۔

پراگ میں جس روز تعریف متعین کی گئی اس روز کے اجلاس میں صرف چار سو چوبیس ماہرین شریک ہوئے تھے۔

پراگ اجلاس میں جو ابتدائی تجویز پیش کی گئی اس میں تین نئے سیاروں کو نظامِ شمشی کا حصہ بنانے کے لیئے کہا گیا تھا جس کی ماہرین نے شدید مخالفت کی۔ جس کے بعد چار علیحدہ تجاویز پیش کی گئیں۔

ان تجاویز کے بعد سائنسدانوں نے وہ تاریخ ساز رہنما اصول وضع کیئے جن کی بنیاد پر پلوٹو کو ثانوی درجے کا ایک سیارچے قرار دیا گیا۔

پلوٹو 1930 میں دریافت کیا گیا

امریکی خلائی ادارے میں پلوٹو کے لیئے نیو ہورائیزن مشن کے سربراہ ڈّاکٹر ایلن سٹرن کا کہنا ہے کہ ’سیاروں کی یہ تعریف گھٹیا اور یہ ناقص سائنسی روّیئے کا نتیجہ ہے اور اس کی توثیق کسی بھی ایسے اجلاس میں نہیں ہو سکتی جو اس نوع کے فیصلوں کے معیار کا ہو۔

ڈاکٹر سٹرن نے پراگ کے اس اجلاس میں شریک نہیں تھے جس میں سیاروں کی وہ متنازع تعریف کی منظوری دی گئی جس کی بناء پر پلوٹو کو کمتر درجے کا سیارہ قرار دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر سٹرن اس تعریف ہر اعتراض کرتے ہیں کہ ’اول تو سیارچوں اور سیاروں کے درمیان کوئی ایک ایسی حد قائم نہیں کی جا سکتی جو انہیں الگ الگ کرے اور اسگر ایسا کیا ہی جائے تو یہ ایسا ہی ہو گا جیسے ہم انسانوں کو اپنی من مانی وجوہ کی بنا پر انسان قرار نہ دیں اور کہیں کہ کچھ لوگ اس لیئے انسان نہیں ہیں کہ وہ گروہوں میں رہتے ہیں۔

اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اصل تعریف اس سے بھی کہیں زیادہ خراب ہے کیونکہ وہ غیر مستحکم اور بے اصولی پر مبنی ہے۔

سیارہ قرار دیئے جانے کے لیئے جو ایک شرط اہم قرار دی گئی ہے یہ ہے کہ سیارہ اپنے مدار میں آنے والی رکاوٹوں کو کششِ ثقل کی بنا پر آگے دھکیل سکتا ہو لیکن پلاٹو کا بیضوی مدار نیپچوں کےمدار کے اوپر سے گزرتا ہے اور اسی لیئے پلاٹو سیارہ نہیں ہے۔

لیکن ڈاکٹر سٹرن کہتے ہیں کہ زمین، مریخ، مشتری اور نیپچوں بھی تو اپنے مدار کے علاقوں کو پوری صاف نہیں کرتے ہیں۔ اگر وہ سیارے ہیں تو پالٹو کیوں نہیں؟

جاپانی کامیابی
اٹھارہ کروڑ میل دور سیارے کا ٹکڑا حاصل
دسواں سیارہدسواں سیارہ
ماہرین فلکیات نے دسویں سیارے کی تصدیق کی ہے۔
سیارہ زحلنیا چاند نظر آ گیا
سال رفتہ میں زحل کا چاند بھی دریافت کیا گیا
اسی بارے میں
نیلا اور سرخ قریب تر
05.09.2003 | صفحۂ اول
مریخ زمین سے قریب تر
27 August, 2003 | صفحۂ اول
زھرہ پر زندگی؟
26.09.2002 | صفحۂ اول
مریخ پر زندگی؟
27.05.2002 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد