دسویں سیارے کی تصدیق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماہرین فلکیات کی بین الاقوامی یونین نے نظام شمسی کے کنارے سورج کے گرد چکر لگانے والے دسویں سیارے کی دریافت کی تصدیق کر دی ہے۔ نئے دریافت ہونے والے سیارہ کا زمین سے فاصلہ، زمین اور پلوٹو سیارے کے درمیان فاصلے سے دگنا ہے۔ نئے سیارے کے ہجم کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ پلوٹو سے ذرا بڑا ہے، جو اب تک نظام شمسی کا آخری سیارہ تصور کیا جاتا تھا۔ نئے سیارہ کا جسے کیلی فورنیا اور ہوائی کے ماہرین فلکیات نے دریافت کیا ہے ابھی تک نام نہیں رکھا گیا ہے۔ یہ سیارہ پہلی مرتبہ سن دو ہزار تین میں دیکھا گیا تھا۔ اس ہی مناسبت سے اسے سن دوہزار تین یوبی 313 کہا جا رہا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے اٹھارہ سو چھالیس میں نیپچون کی دریافت کے بعد نظام شمسی میں سورج کے گرد گھومنے والی جواجسام ملے ہیں ان میں اس سیارے کا ہجم سب سے بڑا ہے۔ اس سیارے کو ہوائی کی جیمنائی رصدگاہ کے مائیکل براون اور چڈ ترجیلو اور یل یونیورسٹی کے ڈیوڈ رابنوٹز نے دریافت کیا ہے۔ ڈیوڈ رابنوٹز نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ انتہائی یادگار دن اور یادگار سال ہے۔ سن دوہزار تین یو بی 313 پولٹو سے بڑا ہے اور اس سے بہت زیادہ مدھم ہے۔ انہوں نے کہا اگر یہ بھی پلوٹو کی جگہ ہوتا تو پولٹو جتنا ہی روشن ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اب دنیا کو معلوم ہو گیا ہے کہ پولٹو جیسے اور بھی سیارے ہیں مگر وہ ایسی جگہ پر ہیں جہاں انہیں دیکھا جانا ممکن نہیں ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||