BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 30 July, 2005, 03:19 GMT 08:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دسویں سیارے کی تصدیق
دسواں سیارہ
دسویں سیارے کا فاصلہ پلوٹو سے زمین کے فاصلے سے دوگنا ہے
ماہرین فلکیات کی بین الاقوامی یونین نے نظام شمسی کے کنارے سورج کے گرد چکر لگانے والے دسویں سیارے کی دریافت کی تصدیق کر دی ہے۔

نئے دریافت ہونے والے سیارہ کا زمین سے فاصلہ، زمین اور پلوٹو سیارے کے درمیان فاصلے سے دگنا ہے۔ نئے سیارے کے ہجم کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ پلوٹو سے ذرا بڑا ہے، جو اب تک نظام شمسی کا آخری سیارہ تصور کیا جاتا تھا۔

نئے سیارہ کا جسے کیلی فورنیا اور ہوائی کے ماہرین فلکیات نے دریافت کیا ہے ابھی تک نام نہیں رکھا گیا ہے۔ یہ سیارہ پہلی مرتبہ سن دو ہزار تین میں دیکھا گیا تھا۔ اس ہی مناسبت سے اسے سن دوہزار تین یوبی 313 کہا جا رہا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے اٹھارہ سو چھالیس میں نیپچون کی دریافت کے بعد نظام شمسی میں سورج کے گرد گھومنے والی جواجسام ملے ہیں ان میں اس سیارے کا ہجم سب سے بڑا ہے۔

اس سیارے کو ہوائی کی جیمنائی رصدگاہ کے مائیکل براون اور چڈ ترجیلو اور یل یونیورسٹی کے ڈیوڈ رابنوٹز نے دریافت کیا ہے۔

ڈیوڈ رابنوٹز نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ انتہائی یادگار دن اور یادگار سال ہے۔ سن دوہزار تین یو بی 313 پولٹو سے بڑا ہے اور اس سے بہت زیادہ مدھم ہے۔ انہوں نے کہا اگر یہ بھی پلوٹو کی جگہ ہوتا تو پولٹو جتنا ہی روشن ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اب دنیا کو معلوم ہو گیا ہے کہ پولٹو جیسے اور بھی سیارے ہیں مگر وہ ایسی جگہ پر ہیں جہاں انہیں دیکھا جانا ممکن نہیں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد