دو ہزار چار: سیارے اور چاند کی تلاش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سال دو ہزار چار میں خلائی سائنس میں کئی کارنامے انجام دیے گئے۔ مریخ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی غرض سے امریکی خلائی ایجنسی ناسا اور یورپی سائنسدانوں کی کوششیں نمایاں تھیں۔ لیکن ان میں سے بعض میں انہیں کامیابی ملی تو مریخ پر سیٹلائیٹ بھیجنے کے مشن میں مایوسی بھی ان کا مقدر بنی۔ مریخ پر بھیجا جانے والا ناسا کا سیٹلائیٹ بیگل دو اپنے مشن میں ناکام رہا ۔ پانچ کروڑ ڈالر سے تیار ہونے والے اس سیٹلائیٹ کا مریخ پر پہنچنے سے قبل ہی سائنسدانوں کا اس سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ بہر حال مریخ پر جانے والا ناسا کا دوسرا سیٹلائیٹ ’مارس روور اپورچونیٹی’ اپنے مشن میں کامیاب رہا اور وہ اس سرخ سیارے سے نت نئی تصاویر بھیجتا رہا۔ ان تصاویر سے سائنسدانوں کو اس سیارے کے بارے میں وہ معلومات حاصل ہوئیں جن کے بارے میں پہلے کوئی وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔ اسی سال سائنسدانوں نے اپنا مصنوعی سیارچہ ’کیسینی’ سیارہ زحل پر بھیجا زحل کے چاند کی ریڈار سے کھینچی گئی تصاویر میں گہرے گڑھے نظر آرہے تھے جو مائع میتھین یا ایتھین کی موجودگی ظاہر کرتے ہیں۔ اسی سال برطانوی تاجر اور ورجن گروپ آف انڈسٹریز کے مالک رچرڈ برینسن نے اعلان کیا کہ وہ عنقریب مسافروں کو خلاء میں لے جائیں گے۔ انہوں نے سپیس شپ ون نامی طیارے بنانے والی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا جس کے بعد اگلے تین سالوں میں مسافروں کا خلاء میں جانا ممکن ہو سکے گا۔ اس کے لیے فی مسافر ایک لاکھ برطانوی پاؤنڈ کا خرچ آئے گا۔
سپیس شپ ون طیارے نے اس سال دوسری مرتبہ ایک سو کلومیٹر کی اونچائی تک خلاء میں پرواز مکمل کی اور اس طرح وہ دس ملین ڈالر کی انعامی رقم کا حقدار ہو گیا۔ ہندوستان نے اس سال اپنا پہلا تعلیمی سیٹلائیٹ ’ایڈوسیٹ’ خلاء میں بھیجا۔ اس کے ساتھ ساتھ چاند پر ریسرچ کی غرض سے بھی ایک سیٹلائیٹ لانچ کرنے کا اعلان کیا۔ اسی سال ہندوستان نے سارش نامی طیارہ بنایا۔ یہ ملک میں تیار ہونے والا پہلا ہندوستانی طیارہ ہے۔اس طیارے میں چودہ مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ توقع ہے کہ سال دو ہزار پانچ میں امریکی خلائی مشن ایک مرتبہ پھر سے شروع ہو جائے گا۔ امریکی خلاءبازوں کی خلاء میں پرواز دو ہزار تین میں کولمبیا شٹل کے تباہ ہونے کے بعد روک دی گئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||