BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 December, 2004, 15:15 GMT 20:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دو ہزار چار: سیارے اور چاند کی تلاش

مریخ
مریخ پر تحقیق اس سال بھی سائنسدانوں کی دلچسپی کا باعث رہی
سال دو ہزار چار میں خلائی سائنس میں کئی کارنامے انجام دیے گئے۔ مریخ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی غرض سے امریکی خلائی ایجنسی ناسا اور یورپی سائنسدانوں کی کوششیں نمایاں تھیں۔

لیکن ان میں سے بعض میں انہیں کامیابی ملی تو مریخ پر سیٹلائیٹ بھیجنے کے مشن میں مایوسی بھی ان کا مقدر بنی۔ مریخ پر بھیجا جانے والا ناسا کا سیٹلائیٹ بیگل دو اپنے مشن میں ناکام رہا ۔ پانچ کروڑ ڈالر سے تیار ہونے والے اس سیٹلائیٹ کا مریخ پر پہنچنے سے قبل ہی سائنسدانوں کا اس سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

بہر حال مریخ پر جانے والا ناسا کا دوسرا سیٹلائیٹ ’مارس روور اپورچونیٹی’ اپنے مشن میں کامیاب رہا اور وہ اس سرخ سیارے سے نت نئی تصاویر بھیجتا رہا۔ ان تصاویر سے سائنسدانوں کو اس سیارے کے بارے میں وہ معلومات حاصل ہوئیں جن کے بارے میں پہلے کوئی وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔

اسی سال سائنسدانوں نے اپنا مصنوعی سیارچہ ’کیسینی’ سیارہ زحل پر بھیجا

 اگلے تین سالوں میں مسافروں کا خلاء میں جانا ممکن ہو سکے گا۔ اس کے لیے فی مسافر ایک لاکھ برطانوی پاؤنڈ کا خرچ آئے گا۔
جہاں انہوں نے پہلی مرتبہ زحل کا چاند دریافت کیا۔ سائنسدانوں نے سیارے زحل کی تصاویر کے معائنے کے بعد کہا کہ وہ یہ ثابت کرنے کے بہت قریب ہیں کہ زحل کے چاند ٹائیٹان پر مائع ہائیڈرو کاربن موجود ہے۔

زحل کے چاند کی ریڈار سے کھینچی گئی تصاویر میں گہرے گڑھے نظر آرہے تھے جو مائع میتھین یا ایتھین کی موجودگی ظاہر کرتے ہیں۔

اسی سال برطانوی تاجر اور ورجن گروپ آف انڈسٹریز کے مالک رچرڈ برینسن نے اعلان کیا کہ وہ عنقریب مسافروں کو خلاء میں لے جائیں گے۔ انہوں نے سپیس شپ ون نامی طیارے بنانے والی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا جس کے بعد اگلے تین سالوں میں مسافروں کا خلاء میں جانا ممکن ہو سکے گا۔ اس کے لیے فی مسافر ایک لاکھ برطانوی پاؤنڈ کا خرچ آئے گا۔

News image

سپیس شپ ون طیارے نے اس سال دوسری مرتبہ ایک سو کلومیٹر کی اونچائی تک خلاء میں پرواز مکمل کی اور اس طرح وہ دس ملین ڈالر کی انعامی رقم کا حقدار ہو گیا۔

ہندوستان نے اس سال اپنا پہلا تعلیمی سیٹلائیٹ ’ایڈوسیٹ’ خلاء میں بھیجا۔ اس کے ساتھ ساتھ چاند پر ریسرچ کی غرض سے بھی ایک سیٹلائیٹ لانچ کرنے کا اعلان کیا۔

اسی سال ہندوستان نے سارش نامی طیارہ بنایا۔ یہ ملک میں تیار ہونے والا پہلا ہندوستانی طیارہ ہے۔اس طیارے میں چودہ مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔

توقع ہے کہ سال دو ہزار پانچ میں امریکی خلائی مشن ایک مرتبہ پھر سے شروع ہو جائے گا۔ امریکی خلاءبازوں کی خلاء میں پرواز دو ہزار تین میں کولمبیا شٹل کے تباہ ہونے کے بعد روک دی گئی تھی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد