مریخ پر ناسا کا نیا خلائی مشن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے سنیچر کو نظام شمسی کے اہم سیارے مریخ پر زندگی کا پتہ لگانے کے لیے ایک تحقیقاتی خلائی مشن روانہ ہوگیا ہے۔ نو ماہ کی مسافت طے کرکے مریخ کی سطح پر پہنچنے والا یہ خلائی جہاز سیارے کی سطح پر کھدائی کرکے وہاں سے کچھ نمونے لے گا تاکہ ان کی جانچ سے وہاں زندگی کے امکان کے بارے میں آگاہی حاصل ہو سکے۔ ’دی فینکس‘ نامی یہ خلائی جہاز سنیچر کو ریاست فلوریڈا سے ڈیلٹا ٹو راکٹ کے ذریعے برطانوی وقت کے مطابق دس بج کر چھبیس منٹ پر خلاء میں چھوڑا گیا۔ ’فینکس‘ کو جمعہ کو اپنے سفر پر روانہ ہونا تھا مگر خراب موسمی صورت حال کی وجہ سے راکٹ میں ایندھن بھرنے کا کام نہیں ہو سکا جس کے باعث ناسا حکام کو خلائی مشن کی اڑان کے شیڈول میں تبدیلی کرنی پڑی اور اڑان کا دن جمعہ سے سنیچر کرنا پڑا۔ اگر تمام باتیں طے شدہ منصوبے کے مطابق ہوجاتی ہیں تو ’فینکس‘ اگلے سال مئی کے آخر تک مریخ پر اترنے میں کامیاب ہو جائے گا۔
امریکی خلائی ادارے کی خواہش ہے کہ خلائی جہاز سیارہ مریخ کے عرض البلد کی چپٹی سطح پر اترے۔ خیال ہے کہ برفیلا پانی ان شمالی چٹیل میدانوں کی سطح سے محض چند سو سینٹی میٹر نیچے موجود ہے۔ خلائی مشن کا مقصد نہ صرف اس برفیلے پانی کی تاریخ کے بارے میں معلومات کا حصول ہے بلکہ اس بات کی بھی آگاہی حاصل کرنا ہے کہ آیا اس خطے کی صورت حال خرودبینی زندگی کی نشوونما کے لیے معاون ہو سکتی ہے یا نہیں۔ اس خلائی مشن کے اہم محقق اور اریزونا یونیورسٹی کے پروفیسر پیٹر سمتھ کا کہنا ہے: ’اصل سوال جس کا جواب ہم جاننے کی کوشش کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ کیا وہاں برف پگھلی ہے؟ کیونکہ مٹی کے ساتھ مائع کی شکل میں پانی سے ہمیں وہاں رہائش کے لیے ماحول مل سکتا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ نہایت چھوٹے جانداروں کی بقا کے لیے پانی، مرکب نامیاتی عضلات(جس سے ہمارے جسم کی بناوٹ ہوئی ہے)، پروٹین، امینو ایسڈ اور کئی دوسری اہم اشیاء ضروری ہیں اور اس میں توانائی کے ذرائع بھی شامل ہیں۔ تحقیقاتی مشن کے ایک اور سائنسدان ولیم بائنٹن کا کہنا تھا کہ دلچسپ سوالوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ نامیاتی مالیکیولز سیارہ مریخ کی سطح سے ستر کی دہائی میں اس سیارے پر بھیجے جانے والے خلائی مشن ’وائکنگ‘ کو کیوں نہیں ملے تھے؟، اس کا جواب یہ ہے کہ وہاں کوئی نظام ایسا ہے جو مریخ پر نامیاتی مالیکیولز کو تباہ کر سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ نظام قطبی علاقوں میں کام نہ کر رہا ہو کیونکہ پانی اور برف نامیاتی مرکبات کو تباہ کرنے والے تکسیدی عامل کو تحلیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پروفیسر بوئنٹن کا کہنا تھا کہ مریخ کی مٹی میں ان سب باتوں کے ثبوت سے بھی یہ ظاہر نہیں ہو سکے گا کہ وہاں زندگی کا وجود ہے یا وہ کبھی رہی ہو گی؟
شمسی توانائی سے چلنے والا یہ خلائی جہاز اپنے مشینی ہاتھ کی مدد سے مریخ کی سطح کے نیچے برفیلی پرت تک کھدائی کرکے مٹی کے نمونے تجزیے کے لیے جہاز کے عرشے پر لگے انتہائی طاقتور تحقیقی آلات کو منتقل کردے گا جو ان کی جانچ کریں گے۔ مشن کے اہم رکن اور ایمپریل کالج لندن کے ڈاکٹر ٹام پائیک کا کہنا تھا:’مریخ پر زندگی ملنے کے امکان میں دلچسپی زیادہ ہے مگر ہم یہاں اچھی سائنسی تحقیق کریں گے تاہم زیادہ امکان یہی ہے کہ دورانِ تحقیق سیارے پر زندگی کے آثار نہ مل سکیں تاہم ہم تحقیقاتی مشن کی توجہ محض اس نکتے پر مرکوز نہیں کر سکتے‘۔ چار سو بیس ملین ڈالر کی مالیت کا یہ خلائی مشن مریخ کے قطبین کے ماحول اور موسم کا بھی مشاہدہ کرے گا۔ |
اسی بارے میں مریخ پر پانی کا ایک اور ثبوت؟05 February, 2004 | نیٹ سائنس خلا میں ڈسکوری شٹل کا معائنہ27 July, 2005 | نیٹ سائنس ناسا کا نیا مشن21 November, 2004 | نیٹ سائنس ناسا کی نئی دوربین25 August, 2003 | نیٹ سائنس ناسا خلائی شٹل کی روانگی مؤخر15 March, 2006 | نیٹ سائنس مقناطیسی طوفانوں کیلیے ناسا کےمشن18 February, 2007 | نیٹ سائنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||