| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ناسا کی نئی دوربین
یہ جدید ترین دوربین اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کے تحت ہبل، چندرا اور کامپٹن جیسی مشہور رسدگاہوں کو خلائی تحقیق کے لئے استعمال کیا گیا۔ سپیس انفرا ریڈ ٹیلِسکوپ فیسِلٹی نامی اس سِسٹم سے ستاروں، کہکشاؤں اور سیاروں سے نکلنے والی انفراریڈ شعاعوں ( حرارت یاگرمی) کی نشاندہی کی جائے گی۔ ماہر فلکیات خلا میں پھیلے گرد و غبار میں پوشیدہ اشیاء کو دیکھ سکیں گے جو عام دوربینوں سے نظر نہیں آتیں۔ خاص طور وہ ’نوعمر‘ ستارے توجہ کا مرکز ہونگے جو ان غبار آلودہ کہکشاؤں سے ابھر رہے ہیں جو اس وقت موجود تھیں جب کائنات کی عمر صرف تین ارب برس تھی۔ منگل کے روز بوئنگ ڈیلٹا دوم راکٹ پر سوار اس دوربین کا سفر فلوریڈا میں کیپ کیناورل سے شروع ہوا۔ SIRTF خلاء میں بھیجے جانے والی اب تک کی سب سے بڑی، سب سے حساس انفراریڈ دور بین ہے۔ یہ دو سے پانچ برس تک گردش کرتی رہےگی اور خلاء کی گہرائیوں میں دور ہوتی چلی جائے گی۔ برطانوی ماہر بھی اس دور بین کا استعمال کریں گے اور وہ فلک میں دس ارب نوری سال کے فاصلے پر موجود کہکشاؤں کی تلاش کریں گے۔ یونیورسٹی آف سسیکس کے ایسٹرانمی سینٹر کے ڈاکٹر سیباسٹئن آلیور کا کہنا ہے کہ ’ اس کی مدد سے ہم گرد و غبار میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔‘ ماہر فلکیات ایک ایسے دور پر غور کر پائیں گے جب کائنات ایک بہت ہی ’ہنگامہ خیز‘ جگہ تھی اور کئی نئے ستارے جنم لے رہے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |