خلا میں ڈسکوری شٹل کا معائنہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی خلائی شٹل ڈسکوری کا عملہ خلا میں اپنا پہلا دن اس بات کا جائزہ لینے میں صرف کر رہا ہے کہ آیا کہ ان کے خلائی جہاز کو روانگی کے دوران کوئی نقصان تو نہیں پہنچا تھا۔ خلاباز اس جانچ کے لیے اس خصوصی’روبوٹک آرم‘ کا استعمال کر رہے ہیں جو کہ شٹل پر نصب ’ہِیٹ شیلڈنگ‘ کا جائزہ لینے کے لیے لگایا گیا ہے۔ شٹل کا مکمل جائزہ جمعرات کو اس وقت لیا جائے گا جب وہ بین لاقوامی خلائی سٹیشن سے متصل ہو گی۔ زمین پر موجود ناسا کے ماہرین لانچ کی ویڈیو کا بھی جائزہ لے رہے ہیں جس میں لانچ کے وقت ڈسکوری شٹل سے ملبے کے ٹکڑے گرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ ناسا کے ماہرین اس ویڈیو میں بہت دلچسپی لے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ’ہِیٹ شیلڈ‘ کے حفاظتی خول کا باہری حصہ ہو سکتا ہے تاہم یہ بات بھی خارج از امکان نہیں کہ یہ شیلڈ کا ہی کوئی حصہ ہو۔
ناسا ماہرین نے صحافیوں کو بھی وہ ویڈیو دکھائی جس میں گہرے رنگ کے ایک ٹکرے کو شٹل سے گرتے دیکھا جا سکتا ہے تاہم وہ ٹکڑا شٹل سے ٹکرایا نہیں۔ اس ٹکڑے کے حجم کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا۔ ناسا اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا شٹل کی روانگی کے وقت اس سے کوئی پرندہ تو نہیں ٹکرایا۔ ڈسکوری شٹل کو 26 جولائی کو خلا میں بھیجا گیا ہے۔ کولمبیا شٹل کے تباہی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ناسا نے کوئی انسانی مشن خلا میں بھیجا ہے۔ اس خلائی شٹل کی روانگی جو کہ پہلے 13 جولائی کو طے تھی ایک فیول سنسر کے کام نہ کرنے کی بنا پر مؤخر ہوئی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||