BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 10 July, 2005, 11:04 GMT 16:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈسکوری: تیاری آخری مرحلے میں
News image
ایلین کولین کی سربراہی میں خلاء نوردوں کی یہ ٹیم بدھ کے روز روانہ ہوگی۔
کولمبیا کی تباہی کے ڈھائی سال بعدامریکی خلائی شٹل ڈسکوری خلاء کی جانب اڑان کو تیار ہے اور وہ سات خلاء نورد جو ڈسکوری کو اڑائیں گے فلوریڈا میں ناسا کے اڈے پر پہنچ گئے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار ہفتے کوامریکی خلائی ادارے ناسا کے فلوریڈا سپیس پورٹ پرخلاباز اینڈی تھومیس نےصحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔اس خلائی مشن میں سات خلانورد شامل ہیں۔ کولمبیا کی تباہی کے بعد خلاء کو روانہ ہونے والا یہ پہلا خلائی شٹل مشن ہے۔

اونچی ہوا اور بارش کے ساتھ آنے والےگردباد کےطوفان سے بچانے کے لیے تمام خلانورد طے کردہ مقررہ دن سے ایک دن پہلے اس سینٹر میں جمع ہوئے ہیں۔

امریکی خلائی ایجینسی ناسا نے اس خلائی شٹل کی اڑان کا وقت تین اکیاون ای ڈی ٹی ( سات بج کر اکیاون جی ایم ٹی) مقرر کیا ہے۔

ڈسکوری کے پائلٹ جیمس کیلی نےاس موقع پر یہ امید ظاہر کی کہ اس ہفتے کے اختتام پر ہم خلاء میں ہوں گے۔

اس خلائی مشن کا مقصد انٹر نیشنل سپیس سٹیشن کو ضروری سازوسامان کی فراہمی ہے۔

تھامسن نے کہا کہ میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنھوں نے اس خلائی مشین کی تیاری اور اس کی اڑان کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ میں ان ٹیکس دہندان اور لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنھوں نے اس خلائی پروگرام کی حمایت کی۔

انھوں نے کہا کہ اس خلائی مشن میں تمام خلاءنورد لوگوں کے اعتماد کو قائم رکھنے کے لیے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔

ڈسکوری کی کمانڈر ایلین کولینس نے کہا کہ ان کے خلائی عملے نے اس مشن کی کامیاب اڑان کی تیاری میں جان توڑ کام کیا۔

کولینس نے کہا کہ یہ خلائی شٹل ڈسکوری خلائی تحقیق میں ایک نیا باب کھولے گی۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم انٹر نیشنل سپیس سٹیشن کو مکمل کرنے جارہے ہیں۔ اس سٹیشن میں ان تمام ضروری عوامل پرغور کیا جائےگا کہ اس بات کو سیکھا جائے گا کہ خلاء میں جانے والے کس طرح ایک لمبے عرصے تک وہاں رہ سکتےہیں اور اس بات کی تیاری کی جائے گی کہ کس طرح زمین کےنچلے مدار کو چھوڑا جائے اور دوبارہ چاند پر جایا جائے‘۔

کولینس نے کہا کہ اس تحقیق سے چاندکو رہنے کی ایک بہترجگہ بنانے اور وہاں انسانی جسم کے نمو کو برقرار رکھا جاسکتا ہے۔ یہ ناصرف امریکہ بلکہ اس دنیا میں رہنے والے تمام لوگوں کےلیے بہت اہم ہے۔

66ناسا پر مقدمہ
روسی ماہر فلکیات نے معاوضہ طلب کیا ہے
66بھارتی طالبعلم کا اعزاز
سوربھ سنگھ ناسا کے امتحان میں اول آئے ہیں
66ناسا کا نیا مشن
بگ بینگ کے لئے نئے مشن کے لانچ کی ویڈیو
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد