’میری زندگی متاثر ہوئی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی خلائی ادارے ’ناسا‘ کے ایک سیارے سے چھوڑے جانے والے گولے کے خلاء میں ایک کامٹ سے ٹکرانے کا دھماکہ ماسکو کی عدالت میں بھی سنا گیا۔ عدالت کے ایک چھوٹے سے کمرے میں جج اکثر کم اہمیت والے معاملات کی سنوائی کرتے ہیں نہ کہ بڑے خلائی موضوعات کی۔ جج لتو ینوکوف نے اس کیس کی سماعت شروع کی ہے جس میں ناسا کو ایک مقامی ماہر فلکیات کو بطور ہرجانہ لاکھوں ڈالر ادا کرنے پڑ سکتے ہیں۔ مارینا بے کا دعوی ہے کہ اس گولے کو کامٹ سے ٹکرا کر ناسا نے انسانی تہذیب کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ محترمہ بے کے وکیل الیگزینڈر مولوخوف کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی نے یہ ثابت نہیں کیا کہ اس تجربے سے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ ا’س بات کا امکان ہے کہ کسی دن یہ ٹیمپل زمین کو نقصان پہنچا سکتا ہے‘۔ ناسا کےمشن انجینئیر شادان اردلان نے ان دعوں کو مسترد کر دیا ہے۔ مسٹر ادلان نے بی بی سی کو بتایا ’یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ایک جہاز کے سامنے مچھر آ جائے۔ اس کا اثر بالکل معمولی ہوگا‘۔ لیکن اگر یہ کامٹ زمین سے محفوظ فاصلے پر رہا تب بھی محترمہ بے کی زندگی پہلے جیسی نہیں رہے گی کیونکہ ان کا خیال ہے کہ مدار یا کامٹ میں کسی بھی طرح کی اتھل پتھل ان کی قسمت کو متاثر کرے گی۔ انہوں نے 170 ملین ڈالر ہرجانے کا دعوی کیا ہے۔ تقریباًاتنی ہی رقم ناسا نے اس پراجیکٹ پر خرچ کی ہے۔ ماسکو میں امریکی خلائی ایجنسی کے نمائندوں نے اس کیس کو کوئی اہمیت نہیں دی ہے۔ محترمہ بے کے وکلا کی ٹیم پر اعتماد ہے اور وہ ایسے رضاکاروں کی تلاش میں ہیں جو اس دعوے میں شریک ہونا چاہتے ہوں۔ اس مقدمے کا فیصلہ آنے میں کم از کم ایک ماہ لگ سکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||