ناسا ٹیمپل ون کے ہدف میں کامیاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی خلائی ادارے ’ناسا‘ کے ایک سیارے سے چھوڑا جانے والا ایک گولا زمین سے دور خلاء میں ایک کامٹ سے ٹکرایا گیا ہے۔ واشنگ مشین کے برابر یہ گولا جس کا وزن تقریباً تین سو بہتر کلو گرام تھا گرینج وقت کے مطابق پانچ بج کر پچاس منٹ پر کامٹ سے ٹکرایا اور اس ٹکر سے کامٹ کی سطح پر ہزاروں سال سے منجمد ذرات کا ایک غبار فضا میں بلند ہوا۔ اس ٹکراؤ کو ہالی وڈ کی ایک فلم کے نام پر ’ڈیپ امپیکٹ‘ کا نام دیا گیا تھا۔ گولا چھوڑنے والے سیارے نے ایک محفوظ فاصلے سے اس ٹکراؤ کا مشاہدہ کیا اور زمینی سٹیشن پر اس کی تصاویر ارسال کیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ کامٹ کی سطح سے اٹھنے والے غبار میں ایسے ذرات شامل ہیں جو ساڑھے چار ارب سال پہلے نظام شمسی کے وجود میں آنے کے وقت سے اب تک اپنی اصل صورت میں موجود ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان ذرات پر تحقیق سے نظام شمسی اور زندگی کے وجود میں آنے کے بارے میں مفید معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ ناسا کے سائنسدان اور ڈیپ امپیکٹ مشن کے انچارج ڈاکٹر چارلس ایلاچی منصوبے کے اس مرحلے کی کامیابی سے تکمیل پر انتہائی خوش ہیں۔ انہوں نے منصوبے کے آغاز سے ہی اس کو ایک انتہائی اہم اور پر خطرمشن قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے نظام شمسی اور خلائی تحقیق کے نئے دروازے کھلیں گے۔ ٹیمپل ون نامی اس کامٹ سے یہ گولا زمین سے تیرہ کروڑ تیس لاکھ کلو میٹر کے فاصلے پر ٹکرایا ہے۔ پوری دنیا میں سائسندانوں نےمختلف دور بینوں اور مختلف آلات سے اس تجربے کا مشاہدہ کیا۔ کامٹ سائنسی زبان میں برف کے ایسے بڑے بڑے گولوں کو کہتے ہیں جو نظام شمسی کی ابتدا کے وقت ہی وجود میں آئے تھے اور اسی وقت سے سورج کے گرد بالکل زمین کی طرح ایک مدار میں گردش کرتے ہیں۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ان کے اوپر کی سطح کے ذرات تو سورج کی روشنی پڑنے سے آلودہ ہو گئے ہیں یا بدل گئے ہیں۔ لیکن ان کے مرکز میں جو مادہ ہے وہ اسی حالت میں ہے جو نظام شمسی کی ابتدا کے وقت یعنی ساڑھے چار ارب سال پہلے تھا۔ اور اسی مادے کو باہر نکالنے کے لیے سائنسدانوں نے ایک مصنوعی گولے کو بہت تیز رفتار، یعنی سینتیس ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے، کامٹ سے ٹکرایا ہے۔ جس سے انہوں نے کامٹ کی سطح پر فٹ بال کے گراؤنڈ جتنا چوڑا اور سات منزلہ عمارت جتنا گہرا گڑھا پڑنے کا اندازہ لگایا ہے ۔ اس ٹکراؤ سے جو ذرات کامٹ کی سطح سے اچھل کر خلاء میں بکھرے ہیں ان کا مطالعہ کرنے کے لیے زمین کی سطح کے علاوہ خلاء میں موجود کئی ٹیلی سکوپس کا رخ اس کامٹ کی طرف کر دیا گیا ہے۔ کہا جا رہا تھا کہ اس ٹکراؤ سے کچھ دیر کے لیے اتنی روشنی پیدا ہوگی کہ کامٹ ٹیمپل ون زمین پر کچھ مقامات سے بھی نظر آئے گا تاہم ابھی تک زمین سے اس کے نظر آنے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||