شمسی بادبان خلائی مشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بادبانی کشتی کی طرز پر روشنی کے ذرّات سے چلنے والے پہلے خلائی جہاز کا مشن پر روانگی کے کچھ ہی دیر بعد ززین سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ کوسموس اوّل نامی خلائی جہاز کو بحیرہ بیرنٹس سے ایک روسی آبدوز سے روانہ کیا گیا تھا۔ جہاز نے سورج کی روشنی کے ذرات یعنی فوٹون سے ایسے ہی دھکیلیں جانا تھا جیسے بادبانی کشتی کو ہوا دھکیلتی ہے۔ روشنی کے ذرات جہاز کے آٹھ بلیڈوں سے ٹکرائیں گے اور اس کو آگے دھکیلیں گے۔ شمسی بادبانی خلائی جہاز کا تصور سائنس فکشن سے لیا گیا ہے۔ اس مشن کا مقصد شمسی بادبان کے تصور کے قابل عمل ہونے کو ثابت کرنا ہے۔ روسی خلائی ادارے کی ترجمان کے مطابق مشن کی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنے میں کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے خیال میں فوٹون سے چلنے والا یہ خلائی جہاز دوسرے مشن کے مقابلے میں کم خرچ ہوگا۔ امریکی، یورپی، جاپانی اور روسی خلائی ادارے بھی ایسے ہی مشن پر کام کر رہے ہیں۔ منگل کو شروع ہونے والا یہ مشن امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں پیسادینا میں دی پلینٹری سوسائٹی نامی ادارے کے وسائل سے ممکن ہوا ہے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا نے اس مشن سے حاصل ہونے والی معلومات میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ روس میں بنا کوسموس اوّل ننیانوے کلوگرام وزنی ہے۔ پروگرام کے مطابق اس جہاز نے آٹھ سو چار کلومیٹر کی بلندی سے چار روز تک زمین کی تصاویر لینی ہیں۔ اس کے بعد خلائی جہاز کے پلاسٹک سے بنے آٹھ بلیڈ کھل کر تیس میٹر کے دائرے میں پھیل جائیں گے۔ ابتدائی طور پر سورج کی روشنی سے ہر روز جہاز کی رفتار میں ایک سو اکسٹھ کلومیٹر فی گھنٹے کا اضافہ ہوگا۔ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ خلائی جہاز کی رفتار تیز ہو جائےگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||