’گلیلیو نیوی گیشن‘ ایک حقیقت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی ممالک کے جانب سے منظوری کے بعد اب ’ گلیلیو نیوی گیشن سسٹم‘ جلد ہی حقیقت کا روپ دھار لے گا۔ یورپی وزرائے ذرائع آمدورفت اس منصوبے کے اگلے مرحلے پر متفق ہو گئے ہیں۔ اس مرحلے میں خلائی جہاز کی تعمیر اور اس کا خلا میں بھیجا جانا شامل ہے۔ یہ امید کی جا رہی ہے کہ یورپی ممالک کے سیارچے 2008 تک خلا میں اپنی مقررہ جگہ پر موجود ہوں گے جس کے بعد اس منصوبے کا آغاز کیا جا سکے گا۔ گلیلیو سسٹم امریکی جی پی ایس سسٹم سے مطابقت رکھے گا اور اس کے نتیجے میں زمین کے تمام حصوں میں ’ گلوبل پوزیشنگ‘ کے قابلِ اعتماد اور یورپی کمشنر برائے ذرائع آمدورفت کا کہنا تھا کہ’ یہ ٹیکنالوجی کا ایک حقیقی انقلاب ہے‘۔ اس نظام کی مدد سے حادثات کی صورت میں متاثرہ گاڑیوں کے صحیح مقام کی نشاندہی، بنا رکاوٹ ٹریفک کے بہاؤ اور سیلاب اور آگ جیسی قدرتی آفات کا پتہ لگانےمیں مدد ملے گی۔ اس منصوبے پر دو اعشاریہ ایک بلین یورو لاگت آئے گی جس کا دو تہائی صنعتی ادارے برداشت کریں گے۔اس منصوبے کی تحقیق اور ترویج کے لیے پہلے ہی ایک بلین یورو جاری کیے جا چکے ہیں۔ منصوبے کی تکمیل پر اس کا تمام خرچ نجی شعبہ برداشت کرے گا۔ گلیلیو سسٹم کروڑوں یورو کی ایک ایسی صنعت کو جنم دے گا جس سے مختلف انواع کے کاروباروں کو فائدہ پہنچے گا۔ ان کاروباروں میں موبائل فون سے لے کر گائیڈڈ بسیں اور ٹرینیں شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ’ ہم ڈیڑھ لاکھ نئی نوکریوں اور صنعتی ترقی کے ایک نئے سلسلہ کے آغاز کی امید کر رہے ہیں‘۔ گلیلیو نیوی گیشن سسٹم کی کہکشاں میں تیس سیارچے شامل ہوں گے جو کہ امریکی نظام میں موجود سیارچوں سے دوگنا ہیں۔ ان سیاروں سے زمین کے ہر کونے تک سگنلوں کی رسائی ممکن ہو جائے گی۔ اس یورپی نیوی گیشن سسٹم نے امریکی وزارتِ دفاع کو متفکر کر دیا ہے ۔ پینٹاگون کا خیال ہے کہ اس نظام کی فریکوئنسی امریکہ کے فوجی مقاصد کے لیے بھیجے گئے سیارچوں پر اثر ڈالے گی۔ لیکن امریکہ اور یورپ نے جون میں ایک معاہدہ پر دستخط کیے ہیں جس کے مطابق کوئی بھی فریق ہنگامی حالات میں ایک مقررہ علاقے میں دوسری فریق کے سگنل روک سکتا ہے۔اس مقصد کے لیے مکمل نظام کی بندش ضروری نہیں ہو گی۔ گلیلیو نظام کے حقوق حاصل کرنے کے لیے دو تجارتی گروہوں میں مقابلہ ہے اور یورپی وزراء آنے والے چند ماہ میں اس بات کا فیصلہ کریں گے۔ پہلا نمائشی سیارچہ اگلے برس خلا میں چھوڑا جائے گا۔ اگرچہ گلیلیو نظام کے ابتدا کے لیے 2008 کی تاریخ دی گئی ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||