’سوئفٹ‘ سیارچہ خلا میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بگ بینگ کے بعد رونما ہونے والے طاقتور دھماکوں کا پتہ لگانے اور ان پر تحقیق کر نے کے لیے ایک نئی خلائی مشاہدہ گاہ کو خلا میں بھیجا گیا ہے۔ سوئفٹ نامی سیارچہ گاما شعاعوں کے دھماکوں کی نشاندہی کرے گا اور بعد ازاں ان کا تجزیہ بھی کرے گا۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ گاما شعاعوں کے دھماکے ان’بلیک ہولز‘ کی پیدائش کی جانب اشارہ کرتے ہیں جو کہ بڑے ستاروں کے گرنے سے وجود میں آتے ہیں۔ سوئفٹ کو جو کہ امریکہ ، برطانیہ اور اٹلی کا مشترکہ مشن ہے فلوریڈا کے کیپ کنیورل سے ایک ڈیلٹا راکٹ کی مدد سے خلا میں بھیجا گیا۔ دو سو پچاس ملین ڈالر مالیت کی یہ مشاہدہ گاہ تین آلات پر مشتمل ہے جو کہ باہمی طور پر کام کرتے ہیں۔ اس مشاہدہ گاہ میں موجود دوربین کو امریکی خلائی تحقیقی ادارے ناسا نے تیار کیا ہے اور اس کی مدد سے آسمان کے ایک بڑے حصے میں ہونے والے گاما شعاعوں کے دھماکوں کی نشاندہی کی جا سکے گی۔ اس دوربین سے حاصل کردہ معلومات کی مدد سے سوئفٹ سیارچہ کا رخ تبدیل کی جائے گا۔ گاما شعاعوں کے دھماکے لمحاتی ہوتے ہیں اگرچہ ایک دھماکے کے بعد ایکس ریز، روشنی اور ریڈیائی لہریں گھنٹوں بلکہ ہفتوں تک خارج ہوتی رہتی ہیں۔ سائنسدان ابھی تک ان دھماکوں کی طاقت اور اصلیت جاننے میں مکمل کامیابی حاصل نہیں کر سکے ہیں۔ گاما شعاعوں کے ایک دھماکے سے اتنی توانائی خارج ہوتا ہے جتنی کہ سورج اپنی مکمل زندگی میں خارج کرے گا۔ پہلی بار گاما شعاعوں کے دھماکوں کی نشاندہی سرد جنگ کے دور میں ہوئی تھی اور مغربی تحقیق دان اسے چاند اور دوسرے سیاروں پر روس کی جانب سے کیا جانے والا ایٹمی تجربہ سمجھے تھے۔ ’سوئفٹ‘ چار اور سیارچوں کے ساتھ مل کر دنیا بھر کے سائنسدانوں کو گاما شعاعوں کے دھماکوں سے متعلق معلومات مہیا کرے گا۔ ناسا کے ڈاکٹر نیل گیرلز نے بتایا کہ’ سوئفٹ ناسا کی سربراہی میں کام کرے گا اور ہم ایک سال میں سو سے زیادہ گاما شعاعی دھماکوں کی نشاندہی اور تجزیہ کی امید کر رہے ہیں‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||