نئے شواہد: مریخ پر واپسی لازمی ہوگئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی خلائی ادارے ناسا کے سائنسدانوں نے مریخ کی سطح پر چلنے والی خلائی گاڑی روور سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں کہا ہے کہ جہاں یہ گاڑی اتری تھی وہ اس سیارے پر زندگی کی تلاش کے لیے بہترین جگہ ہے۔ مریخ پر بھیجے گیا اوپورچیونٹی(Opportunity) نامی روور زندگی کی تلاش کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا اور نہ ہی اس نے مریخ پر کوئی ایسے آثار تلاش کیے۔ لیکن سائنس نامی جریدے میں خلائی ٹیم کے ارکان نے امکان ظاہر کیا ہے کہ جہاں روور اترا تھا وہ جگہ ایک عرصے تک زندگی کے لیے موزوں تھی۔ انہوں نے کہا کہ زمین پر جہاں ایسے حالات ہیں ان مقامات پر جرثومے پائے جاتے ہیں۔ روور سے حاصل ہونے والی تصاویر سے سائنسدانوں نے اندازہ لگایا کہ یہ خلائی روبوٹ جس جگہ پر گھومتا رہا ہے وہ سیارے کے دوسرے مقامات سے قدر مختلف ہے۔ دنیا بھر میں ناظرین ان تصاویر میں گہری رنگت والی تہہ در تہہ ریت اور پیلے رنگ کی پتھریلی سطح دیکھ کر ششدر رہ گئے تھے۔ ان تصاویر کے ملنے کے بعد ہونے والی تحقیق سے معلوم ہوا کہ پیلے پتھر چٹانوں کے ایک سلسلے کا حصہ ہیں جو پانی کی موجودگی میں وجود پاتا ہے۔ محقق پُراعتماد ہیں کہ مریخ پر یہ پتھر پانی سے ہی وجود میں آئے ہیں لیکن کچھ سوالات ابھی حل طلب ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||