مریخ پر زندگی کا معمہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مریخ پر میتھین گیس کے آثار ملے ہیں جو سائنسدانوں کے مطابق اس سیارے پر زندگی کے امکان کا ثبوت ہو سکتا ہے۔ مریخ پر میتھین کی موجودگی کی تصدیق یورپی خلائی گاڑی ’مارز ایکپریس‘ سے بھی ہوئی ہے جو مریخ کے مدار میں سفر کر رہی ہے۔ اس سے پہلے زمین پر لگی ہوئی دوربینوں سے بھی میتھین کی موجودگی کے شواہد ملے تھے۔ میتھین مریخ کی فضا میں زیادہ دیر نہیں بچ سکتی اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ وہ مسلسل پیدا ہو رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو وہاں کسی آتش فشاں کا ہونا ہے اور دوسرے خوردبینی جرثوموں کی موجوودگی۔ مریخ پر میتھین کی موجودگی کے بارے میں مزید شواہد پر آئندہ ماہ ماہرین فلکیات کے ایک اجلاس کے دوران غور کیا جائے گا۔ مریخ پر لاوا اگلتے آتش فشاں کی موجودگی ایک اہم بات ہو گی کیونکہ اس کی گرمی سے وہاں پائی جانے والی برف پِگھل سکتی ہے جو سیارے پر زمین جیسا ماحول پیدا کرنے کا باعث ہو گی۔ جہاں تک جرثوموں کا تعلق ہے تو زمین پر انہیں بیکٹیریاہائڈروجن اور کاربن ڈائو آکسایڈ گیسوں کی مدد سے پیدا کرتا ہے۔ ان کو زندہ رہنے کے لئے آکسیجن کی ضرورت نہیں ہوتی اور امکان ہے کہ مریخ پر بھی اسی قسم کے جرثومے پائے جاتے ہیں۔ جنوری میں مریخ پر اترنے والی خلائی گاڑیوں پر میتھین گیس کی موجودگی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے والے آلات نصب نہیں ہیں۔ یہ کام آئندہ کسی خلائی گاڑی کے ذریعے لیا جائے گا۔ بیگل ٹو نامی خلائی گاڑی پر جس سے مریخ پر اترنے کے بعد رابطہ نہیں ہو سکا ایسے آلات تھے جن سے فضا میں میتھین گیس کی موجودگی کے بارے میں معلومات اِکٹھا کرنے کا کام لیا جا سکتا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||