پال رنکان، بی بی سی سائنس رپورٹر
|  |
 |  ’سائنس‘ نے اپنےاس شمارے میں مریخ کے بارے میں ناسا کی تحقیق شائع کی ہے۔ |
ناسا کی یہ دریافت کہ مریخ پر نمی موجود رہی ہے اس سال کی دس بڑی سائنسی دریافتوں کی فہرست میں پہلےنمبر پر ہے۔’سائنس‘ میگزین کی ہر سال شائع ہونے والی اس فہرست کا بے چینی سے انتظار کیا جارہا تھا۔ ہر سال ’سائنس‘ کی اس فہرست پر لے دے ہوتی اور اس لحاظ سے اس سال کی فہرست بھی کوئی مختلف نہیں ہے۔ لیکن سائنس کے ایڈیٹر ڈونلڈ کینیڈی کے مطابق مریخ پر پانی کے بارے میں ناسا کی دریافت کافہرست میں پہلے نبمر پر آنا کوئی حیرت کی بات نہیں۔ دس بہترین دریافتوں کی اس فہرست میں دوسرے نمبر پر آنے والی دریافت وہ ہے جس کے مطابق انڈونیشیا کے فلورز نامی جزیرے پر صرف تیرہ ہزار سال پہلے انسانی شکل کے بونے لوگ رہتے تھے۔ میگزین ’نیچر‘ میں چھپنے والی اس تحقیق اور ناسا کی دریافت میں پہلے نمبر کے لیےسخت مقابلہ تھا۔ مسٹر کینیڈی کے مطابق بونے انسانوں کے بارے میں دریافت نے بہت سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس نے کئی سوالوں کو بھی جنم دیا ہے۔
 |  انڈونیشیا سے ملنے والی وہ کھوپڑی جوماہرین کے مطابق ہمیں انسانی بونوں کا پتا دیتی ہے |
کینڈی کا کہنا ہے کہ جزیرے پر ملنے والی واحد کھوپڑی اور اس کے ساتھ ملنے والےمواد کو اب دوبارہ ٹیسٹ کیا جارہا ہے ۔ دیکھتے ہیں کہ اس ٹیسٹ کے بعد کیا بات سامنے آتی ہے۔ذیل میں ہم سائنس میگزین کی دس بہترین دریافتوں کی لسٹ میں آنے والی تمام دریافتوں کا ایک مختصر تعارف دے رہے ہیں۔ پہلا نمبر: مریخ پر پانی ناسا کی طرف سےمریخ پر بھیجی جانےوالے ’سپرٹ` اور ’اپارچیونٹی‘ نامی تحقیقی مشن کی یہ دریافت کہ مریخ پر ایک طویل مدت تک نمکین ، تیزابی پانی موجود رہا ہے۔ دوسرا نمبر: انڈونیشیا میں ’ہابٹ‘ نامی بونےانسان آثار قدیمہ کے ماہرین کی یہ دریافت کہ انڈونیشا میں ملنے والی کھوپڑی کے مطابق یہاں ماضی قریب میں ایسے انسان بستے رہے ہیں جن کا قدایک میٹر تھا۔ انسانی کلوننگ: جنوبی کوریا کے کچھ ماہرین کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے انسانی ایمبریو کو کامیابی کے ساتھ کلون کر لیا ہے شائع ہونے والی پہلی تحقیق ہے جس میں اس قسم کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ کنڈنسیٹ: اس سال سائنسدانوں نے کنڈنسیٹ یا سرد ترین گیسوں کے بارے میں ہمارے علم میں زبردست اضافہ کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سرد گیسوں کے بارے میں اس دریافت کے بعد طبیعات کے شعبہ میں کئی اہم چیزوں کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ ڈی این اے کا خفیہ خزانہ: اس دریافت میں یہ بات منظر عام پر آئی تھی کہ ڈی این اے کی وہ کڑیاں جنہیں ماضی میں ’جنک‘ یا بیکار ڈی این اے کا نام دیا جاتا رہا ہے وہ بیکار نہیں ہیں۔ اس دریافت کے مطابق ڈی این اے کے ایسے حصے دراصل اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ کسی جانور یا انسان میں کونسے خدو خال کب ظاہر ہوں گے۔ پلسرپئر: پلسر پئر نامی ستاروں کے اس جوڑے کے بارے میں یہ دریافت کہ دراصل یہ جوڑا اپنے اندر نیوٹرون رکھتا ہے جس وجہ سے یہ یہ جوڑا وقفے وقفے سے ریڈیائی لہریں خارج کرتا ہے۔ جانوروں اور پودوں کی اقسام میں کمی: اس سال شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق دنیا میں پودوں اور جانوروں کی اقسام میں کمی ہو رہی ہے۔ اس تحقیق میں پانی اور خشکی پر پائے جانے والے جانوروں اور پودوں پر کی جانے والی کئی ایک تحقیقات کو بنیاد بنایا گیا تھا۔ پانی کی کیمیائی ساخت: پانی کی کیمیائی ساخت اور خصوصیات کے بارے میں ہونے والی جدید تحقیق کیمیا کے شعبہ میں دورس نتائج کی حامل ہو سکتی ہے۔ غریبوں کے لیے دوا: سائنس میگزین کے مطابق اس سال کے دوران ’پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ‘ کا نظریہ ایک بڑی طاقت کے طور پر سامنے آیا ہے جس سے غریب ممالک میں دواؤں کی دستیابی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ پانی کے قطرے میں جینز: اس سال سائنسدان نہایت چھوٹے خلیوں کے وجود کا پتا لگانے کے طریقوں میں اضافہ کرنے میں بھی کامیاب ہوئے۔ ان نئے طریقوں کی مدد سے پانی کے قطروں میں سےنہایت باریک خلیےالگ کئےگئے۔ |