سورج دو بھی ہو سکتے ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگر امریکی خلائی ادارے ناسا کے پاس موجود اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو فلم ’سٹار وارز‘ میں دکھائے جانے والے دو اکھٹے سورج محض تخیل کی پیداوار نہیں لگتے۔ انیس سو ستتر کی اس کلاسک فلم کے ایک سین میں ہیرو کو دور افق میں اُس طرف دیکھتے دکھایا گیا تھا جہاں دو سورج غروب ہو رہے ہوتے ہیں۔ ناسا کے ماہرین نے اپنی سپٹزر خلائی دوربین سے دیکھا ہے کہ کائنات میں دو سورجوں والے نظام ہائے شمسی کی تعداد اتنی ہی ہے جتنی ایک سورج والے نظاموں کی۔ ناسا کی اس تحقیق کی تفصیلات جریدے ’ایسٹرو فزیکل جرنل‘ میں شائع ہوئیں ہیں۔ تحقیق کے دوران ماہرین نے سپٹزر دوربین پر اِنفرا ریڈ کیمرے لگا کر ایک یا دو سورجوں والے نظاموں کے ارد گرد پائے جانے والے گرد کے ہالوں یا دائروں کو دیکھنے کی کوشش کی۔ عرف عام میں ’گرد کی ڈسکوں ‘ کے نام سے پہچانی جانے والی یہ پلیٹیں دراصل سیاروں کے بننے کے عمل کے دوران بچ جانے والے کچرے سے بنتی ہیں۔ اس سلسلے میں ناسا کے ایک سائنسدان کا کہنا تھا ’ ہم جانتے تھے کے خلاء میں ستارے یا سورج موجود ہیں، لیکن سوال یہ تھا کیا ان کے ارد گرد کوئی ایسا سیارہ بھی ہے جس پر کھڑے ہو کر آپ ان سورجوں کو طلوع و غروب ہوتا دیکھ سکتے ہیں۔ اب ہمارے پاس جو شواہد موجود ہیں ان کی بنیاد پر یہ زیادہ یقینی لگتا ہے کہ ایسے سیارے موجود ہیں جہاں جا کر ہم یہ مشاہدہ کر سکیں گے۔‘ اگرچہ اس بات کے امکانات ہیں کہ گرد کے ہالوں کے اندر سیارے بھی پائے جاتے ہیں لیکن یہ بہرحال قطعاً یقینی نہیں ہے۔ ناسا کی جمع کردہ معلومات کے مطابق دو ستاروں یا سورجوں والے نظاموں میں گرد کے ہالے پائے جانے کے امکانات ایک سورج والے نظاموں کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ اسی بنیاد پر ماہرین کا کہنا ہے کہ دو سورجوں کے گرد سیاروں کا پایا جانا |
اسی بارے میں نظامِ شمسی: ’نو کی جگہ بارہ سیارے‘16 August, 2006 | نیٹ سائنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||