نظامِ شمسی: ’نو کی جگہ بارہ سیارے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگر جمہوریہ چیک کے دارالحکومت پراگ میں’انٹرنیشنل آسٹرونومیکل یونین‘ کے اجلاس میں شریک ماہرینِ فلکیات نظام شمسی کی نئی شکل پر متفق ہو گئے تو اس نظام میں شامل سیاروں کی تعداد نو سے بڑھ کر بارہ ہو سکتی ہے۔ اگر نظام شمسی کی اس نئی شکل پر اتفاقِ رائے ہوا تو دنیا بھر کا سائنسی نصاب بھی تبدیل کرنا پڑے گا۔ نظام شمسی کی نئی شکل کے مطابق اب اس نظام میں عطارد، زہرہ، زمین، مریخ، مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون کو کلاسیکی سیاروں کا درجہ ملے گا جبکہ پلوٹو کو ایک نئی درجہ بندی’پلوٹونز‘ میں رکھا جائے گا جس میں اس کے علاوہ دو دیگر سیارے چیرون اور یو بی 313 شامل ہوں گے۔ چیرون کو اب تک پلوٹو کا چاند تصور کیا جاتا رہا ہے تاہم اب ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک جڑواں سیارہ ہے۔ نظام شمسی کا بارہواں رکن سب سے بڑا شہابِ ثاقب سیرس ہوگا۔ نظامِ شمسی کی یہ نئی شکل’انٹرنیشنل آسٹرونومیکل یونین‘ کے اجلاس میں شریک 2500 ماہرین نے تشکیل دی ہے تاکہ اس بات کا فیصلہ کیا جا سکے کہ سیارے کی اصل تعریف کیا ہے۔ یہ ماہرین اس منصوبے پر جمعرات کو ووٹنگ میں شریک ہوں گے۔
ماہرینِ فلکیات کی یونین کے ایک رکن رچرڈز بنزل کا کہنا تھا کہ’ پچھہتر برس کے عرصے میں ہم پہلی مرتبہ اپنے نظامِ شمسی میں نئے سیارے دریافت کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور یہ ایک نہایت عمدہ بات ہے‘۔ ماہرین اس بات پر منقسم ہیں کہ نظامِ شمسی کے بقیہ آٹھ سیاروں کی نسبت کم حجم کا مالک اور زیادہ دوری پر واقع پلوٹو سیارہ کہلائے جانے کے لائق ہے بھی یا نہیں۔ یہ بحث اس وقت سے زیادہ دلچسپ ہو گئی ہے جب سے ایک امریکی ماہرِ فلکیات نے 2003 UB313 نامی ایک سیارہ نما چیز دریافت کی ہے جو پلوٹو سے حجم میں بڑی ہے۔ کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پروفیسر مائیک براؤن اور ان کے رفقاء نے نظام شمسی کے کنارے پر واقع’ کائپر بیلٹ‘ کے علاقے میں متعدد سیارہ نما اجسام دریافت کیئے ہیں۔ پلوٹو کو 1930 میں دریافت کیا گیا تھا اور اس کا حجم صرف دو ہزار تین سو ساٹھ کلومیٹر ہے۔ یہ زمین، مریخ، مشتری، زحل اور یہاں تک کہ نیپچون جیسے سیارے سے بھی بہت حد تک مختلف ہے۔ اس کے مقابلے میں ہبل دوربین کی مدد سے کی جانے والی پیمائش کے مطابق ’2003 UB313‘ پلوٹو سے حجم میں بڑا ہے اور اس کا حجم تین ہزار کلومیٹر کے قریب ہے۔ ماہرین نے اس اجلاس میں سیارے کی تعریف بھی وضع کی ہے جس میں شناخت کی بنیاد کششِ ثقل کو بنایا گیا ہے۔ اس تعریف کے مطابق اجرامِ فلکی میں سے کسی بھی چیز کو اس وقت تک سیارہ نہیں مانا جا سکتا جب تک وہ چیز ایک ستارے کے گرد مدار میں حرکت نہ کرے اور وہ خود ستارہ بھی نہ ہو۔ اس کے علاوہ اس چیز میں اتنی کشش ِ ثقل ہونی چاہیئے کہ وہ از خود ایک گول شکل اختیار کر سکے۔
| اسی بارے میں مریخ کا روبوٹ مزید خود کار29 May, 2006 | نیٹ سائنس آسمان کے پراسرار بادلوں پر تحقیق27 May, 2006 | نیٹ سائنس وینس ایکسپریس، زہرہ کے مدار میں11 April, 2006 | نیٹ سائنس مشتری کی رنگین تصاویر جاری31 March, 2006 | نیٹ سائنس زمین جیسا سیّارہ دریافت26 January, 2006 | نیٹ سائنس پلوٹو کے لیے پہلا خلائی مشن روانہ19 January, 2006 | نیٹ سائنس سرخ سیارہ مریخ زمین کےقریب آگیا15 November, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||