وینس ایکسپریس، زہرہ کے مدار میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی سائنسدانوں کا کہناہے کہ زہرہ پر تحقیق کے لیئے خلائی جہاز ’وینس ایکسپریس‘ کامیابی کے ساتھ سیارے کے گرد اپنے مدار میں داخل ہوگیا ہے۔ برطانیہ کے وقت کے مطابق صبح آٹھ بج کر سترہ منٹ پر خلائی جہاز کا بڑا انجن چلادیا گیا تھا تاکہ اس کی رفتار کم ہوسکے اور یہ سیارے کی کشش ثقل میں داخل ہوسکے۔ وینس ایکسپریس 500 دنوں تک زہرہ کے گرد اپنے مدار میں چکر لگائے گا اور اس دوران زہرہ کی فضا کا معائنہ کرے گا۔ اس تحقیق سے کچھ حد تک یہ بھی معلوم ہوسکے گا کہ زمین پر موسمیاتی تغیرات کیسے عمل میں آتے ہیں۔ وینس ایکسپریس کا مدار میں داخل ہونا، یورپی خلائی ادارے ’اسا‘ کے پانچ ماہ طویل سفر کا اختتام ہے۔ اگرچہ زہرہ زمین کے مقابلے میں سورک کے زیادہ نزدیک ہے لیکن سیارے کے گرد بادلوں کی ایک موٹی تہہ کا مطلب یہ ہے کہ یہ زمین کے مقابلے میں کم شمسی توانائی جذب کرتا ہے۔ اس لیئے امکان ہے کہ زمین اور زہرہ کی سطح کی آب و ہوا میں مماثلت پائی جاتی ہو۔ تاہم زہرہ کی آب و ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ زیادہ ہے جو اس کی فضا میں ایک ڈھال کی مانند ہے اور یہ زہرہ تک پہنچنے والی شمسی توانائی کو واپس باہر نہیں جانے دیتی جس کے باعث زہرہ کی سطح کا اوسط درجہ حرارت 467 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ اتنا درجہ حرارت سیسہ پگھلانے کے لیئے کافی ہے۔ اس تحقیق سے معلوم ہوسکے گا کے زمین کے سب سے قریب پایا جانے والا اور حجم اور آبو ہوا میں زمین سے اس قدر مشابہت رکھنے والا سیارہ ہمارے دنیا سے اتنا مختلف کیوں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زہرہ کے بارے میں بہت پر اسراریت پائی جاتی ہے۔ جب وینس ایکسپریں کو مدار میں چھوڑا گیا تو زہرہ کے پیچھے جانے کے بعد اس کا رابطہ زمین ےس منقطع ہوگیا لیکن دس منٹ بعد اس کے دوبارہ بحال ہونے سے سائنسدان جان گئے کہ خلائی جہاز کامیابی سے مدار کے گرد چکر لگا رہا ہے۔ وینس ایکسپریں کو نو نومبر 2005 کو روس کے خلائی سٹیشن سے چھوڑا گیا تھا۔ | اسی بارے میں کائنات کا سب سے کم عمر سیارہ 28 May, 2004 | نیٹ سائنس کیا آئن سٹائن کا نظریہ درست تھا؟04 April, 2004 | نیٹ سائنس زمین کا نیا ہمسایہ15 March, 2004 | نیٹ سائنس نیلا اور سرخ قریب تر05.09.2003 | صفحۂ اول گیلیلیو کا مشن مکمل22 September, 2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||