پلوٹو کے لیے پہلا خلائی مشن روانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی خلائی ادارے ناسا نے پلوٹو سیارے کے لیے اپنا پہلا مشن ’نیو ہورائزنز‘ روانہ کر دیا ہے۔ یہ خود کار خلائی مشن جمعرات کے روز فلوریڈا میں ’کیپ کاناویرل‘ سے روانہ ہوا۔ ناسا کا طاقتور ترین راکٹ اسے تیز رفتاری سے خلا میں لے جائے گا۔ توقع ہے کہ مشن پانچ ارب کلومیٹر کا یہ سفر نو سال میں طے کرے گا جہاں یہ اس سیارے کے بارے میں اہم معلومات حاصل کرے گا۔ اس سے پہلے طوفانی ہواؤں کی وجہ سے مشن کی روانگی میں دو بار تاخیر ہوئی لیکن بالآخر جمعرات کو اسے فلوریڈا سے روانہ کر دیا گیا۔ مشن کی روانگی کے لیے تین فروری تک کا وقت تھا کیونکہ اس کے بعد مشن کے شروع کیے جانے کی صورت میں سفر کے مدت میں پانچ سال کا اضافہ ہوجاتا جس سے مشن کے ناکام ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے۔ پلوٹو نظام شمسی کے سیاروں میں واحد سیارہ ہے جس پر کوئی خلائی جہاز نہیں گیا۔ راکٹ سے علیحدگی کے بعد شٹل کو میری لینڈ میں موجود لیبارٹری سے کنٹرول کیا جائے گا۔
ستر کروڑ ڈالر کی لاگت سے کی جانے والی اس تحقیق کا مقصد پلوٹو اور اس کے چاندوں کے متعلق معلومات اکٹھی کرنا ہے۔ اس کے بعد نظام شمسی میں موجود دیگر اجسام کے بارے میں بھی تحقیق کی جائے گی۔ اس سلسلے میں ناسا کے منتظم ڈاکٹر مائیک گرفن نے کہا کہ ’اس مشن کے ساتھ ہم ا س سیارے کی نشاط ثانیہ کی طرف چل پڑے ہیں جو خلائی تحقیق کے دور میں داخل ہونے کے بعد سے آخری سیارے کے طور پر جانا جاتا ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’اس کے بعد سے ہم نے دیگر بڑے خلائی اجسام بھی دریافت کیے ہیں اور اب اس بات پر بھی بحث ہو رہی ہے کہ آیا پلوٹو واقعی ایک سیارہ ہے اور اگر ہے تو کیا یہ نظام شمسی کا آخری سیارہ ہے؟‘ کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ پلوٹو برف کا ایک بڑا ٹکڑا ہے جو ’کیوپر بیلٹ‘ کے خطے میں واقع ہے۔ ’نیپچون‘ سیارے کے بعد کا یہ خطہ برف کے لاکھوں بڑے بڑے ٹکڑوں کا حامل ہے اور اس علاقے کا رقبہ زمین اور سورج کے درمیانی فاصلے سے پچاس فیصد زیادہ ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پلوٹو جڑواں سیاروں کا ایک حصہ ہے جس کا دوسرا حصہ ’چیرن‘ ہے۔
تین فروری سے پہلے خلائی مشن کی روانگی سے یہ امید پیدا ہو گئی ہے کہ خلائی جہاز مشتری کے پاس سے گزرے گا اور اس کی کشش ثقل کو استعمال میں لا کر اس کی رفتار سورج کی مخالف سمت میں چار کلومیٹر فی سیکنڈ بڑھ جائے گی اور مشن کی کامیابی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ خلائی جہاز ’نیو ہورائزنز‘ جولائی 2015 میں پلوٹو اور اس کے چاند ’چیرن‘ کے پاس ایک ہی دن پہنچے گا۔ اس خلائی جہاز میں سات ایسے آلات ہیں جن سے پلوٹو کی سطح، آب و ہوا اور ساخت کے بارے میں معلومات حاصل کی جائیں گی۔ مشن کے پلوٹو پہنچنے کے بعد سائنسدان اس بات کا فیصلہ کریں گےکہ آیا اسے کسی اور جانب روانہ کیا جائے یا نہیں۔ ممکن ہے کہ اسے ’کیوپر بیلٹ‘ کے علاقے میں مختلف اجسام کے بارے میں تحقیق کرنے کے لیے بھیجا جائے گا کیونکہ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ان کے ذریعے نظام شمسی کے ارتقا کے بارے میں مفید معلومات مل سکیں گی کیونکہ اس علاقے میں نظام شمسی کے بننے کے عمل کے ذرات اور گرد اب بھی موجود ہے۔ |
اسی بارے میں ڈسکوری کی واپسی 08 August, 2005 | نیٹ سائنس شٹل: خلا میں مرمت کامیاب 02 August, 2005 | نیٹ سائنس ناسا ٹیمپل ون کے ہدف میں کامیاب04 July, 2005 | نیٹ سائنس کوسموس اوّل ابھی تک لاپتہ22 June, 2005 | نیٹ سائنس روشنی سے چلنے والا خلائی جہاز 21 June, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||