BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 January, 2006, 20:17 GMT 01:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پلوٹو کے لیے پہلا خلائی مشن روانہ
ناسا کا مشن ’نیو ہورائزنز‘
توقع ہے کہ پلوٹو کا یہ سفر نو سال میں طے ہو جائے گا
امریکی خلائی ادارے ناسا نے پلوٹو سیارے کے لیے اپنا پہلا مشن ’نیو ہورائزنز‘ روانہ کر دیا ہے۔ یہ خود کار خلائی مشن جمعرات کے روز فلوریڈا میں ’کیپ کاناویرل‘ سے روانہ ہوا۔

ناسا کا طاقتور ترین راکٹ اسے تیز رفتاری سے خلا میں لے جائے گا۔ توقع ہے کہ مشن پانچ ارب کلومیٹر کا یہ سفر نو سال میں طے کرے گا جہاں یہ اس سیارے کے بارے میں اہم معلومات حاصل کرے گا۔

اس سے پہلے طوفانی ہواؤں کی وجہ سے مشن کی روانگی میں دو بار تاخیر ہوئی لیکن بالآخر جمعرات کو اسے فلوریڈا سے روانہ کر دیا گیا۔

مشن کی روانگی کے لیے تین فروری تک کا وقت تھا کیونکہ اس کے بعد مشن کے شروع کیے جانے کی صورت میں سفر کے مدت میں پانچ سال کا اضافہ ہوجاتا جس سے مشن کے ناکام ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے۔

پلوٹو نظام شمسی کے سیاروں میں واحد سیارہ ہے جس پر کوئی خلائی جہاز نہیں گیا۔ راکٹ سے علیحدگی کے بعد شٹل کو میری لینڈ میں موجود لیبارٹری سے کنٹرول کیا جائے گا۔

پلوٹو
کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ پلوٹو سیارہ نہیں ہے

ستر کروڑ ڈالر کی لاگت سے کی جانے والی اس تحقیق کا مقصد پلوٹو اور اس کے چاندوں کے متعلق معلومات اکٹھی کرنا ہے۔ اس کے بعد نظام شمسی میں موجود دیگر اجسام کے بارے میں بھی تحقیق کی جائے گی۔

اس سلسلے میں ناسا کے منتظم ڈاکٹر مائیک گرفن نے کہا کہ ’اس مشن کے ساتھ ہم ا س سیارے کی نشاط ثانیہ کی طرف چل پڑے ہیں جو خلائی تحقیق کے دور میں داخل ہونے کے بعد سے آخری سیارے کے طور پر جانا جاتا ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’اس کے بعد سے ہم نے دیگر بڑے خلائی اجسام بھی دریافت کیے ہیں اور اب اس بات پر بھی بحث ہو رہی ہے کہ آیا پلوٹو واقعی ایک سیارہ ہے اور اگر ہے تو کیا یہ نظام شمسی کا آخری سیارہ ہے؟‘

کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ پلوٹو برف کا ایک بڑا ٹکڑا ہے جو ’کیوپر بیلٹ‘ کے خطے میں واقع ہے۔ ’نیپچون‘ سیارے کے بعد کا یہ خطہ برف کے لاکھوں بڑے بڑے ٹکڑوں کا حامل ہے اور اس علاقے کا رقبہ زمین اور سورج کے درمیانی فاصلے سے پچاس فیصد زیادہ ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پلوٹو جڑواں سیاروں کا ایک حصہ ہے جس کا دوسرا حصہ ’چیرن‘ ہے۔

’نیو ہورائزنز‘ کی خیالی تصویر
یہ مشن پلوٹو تک جانے والا پہلا خلائی مشن ہو گا

تین فروری سے پہلے خلائی مشن کی روانگی سے یہ امید پیدا ہو گئی ہے کہ خلائی جہاز مشتری کے پاس سے گزرے گا اور اس کی کشش ثقل کو استعمال میں لا کر اس کی رفتار سورج کی مخالف سمت میں چار کلومیٹر فی سیکنڈ بڑھ جائے گی اور مشن کی کامیابی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

خلائی جہاز ’نیو ہورائزنز‘ جولائی 2015 میں پلوٹو اور اس کے چاند ’چیرن‘ کے پاس ایک ہی دن پہنچے گا۔ اس خلائی جہاز میں سات ایسے آلات ہیں جن سے پلوٹو کی سطح، آب و ہوا اور ساخت کے بارے میں معلومات حاصل کی جائیں گی۔

مشن کے پلوٹو پہنچنے کے بعد سائنسدان اس بات کا فیصلہ کریں گےکہ آیا اسے کسی اور جانب روانہ کیا جائے یا نہیں۔ ممکن ہے کہ اسے ’کیوپر بیلٹ‘ کے علاقے میں مختلف اجسام کے بارے میں تحقیق کرنے کے لیے بھیجا جائے گا کیونکہ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ان کے ذریعے نظام شمسی کے ارتقا کے بارے میں مفید معلومات مل سکیں گی کیونکہ اس علاقے میں نظام شمسی کے بننے کے عمل کے ذرات اور گرد اب بھی موجود ہے۔

خلائی سیاحخلائی سیاحت
خلاء میں چھٹیاں گزارنا بھی کام کے مترادف ہے۔
ڈسکوریڈسکوری کو نقصان
شٹل کی پروازیں معطل کرنے کا فیصلہ
مریخ پولر لینڈرفینکس کا نیا مشن
مریخ کے لیے ایک نئے مشن کا فیصلہ کیا گیا ہے
خلائی رصدگاہکائنات کے دھماکے
ٹائٹینک دھماکوں کی معلومات ویب پر
اسی بارے میں
ڈسکوری کی واپسی
08 August, 2005 | نیٹ سائنس
شٹل: خلا میں مرمت کامیاب
02 August, 2005 | نیٹ سائنس
کوسموس اوّل ابھی تک لاپتہ
22 June, 2005 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد