BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 June, 2005, 12:28 GMT 17:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوسموس اوّل ابھی تک لاپتہ
کوسموس اوّل
کوسموس اوّل نامی خلائی جہاز کو بحیرہ بیرنٹس سے ایک روسی آبدوز سے روانہ کیا گیا تھا۔
سائنس دانوں کے مطابق بادبانی کشتی کی طرز پر روشنی کے ذرّات سے چلنے والے تجرباتی خلائی جہاز کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں چلا۔

نجی فنڈ کے تحت کوسموس اوّل نامی خلائی جہاز کو بحیرہ بیرنٹس سے ایک روسی آبدوز سے روانہ کیا گیا تھا۔

ماسکو میں مشن کنٹرولروں کا کہنا ہے ایسے اشارے ملے ہیں کہ روانہ ہونے کے بعد راکٹ ناکام ہو گیا۔ لیکن بعد میں اسی مشن پر کام کرنے والی امریکی ٹیم نے کہاکہ جہاز سے بہت کمزور سگنل ملے ہیں۔

امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں پیسادینا میں دی پلینٹری سوسائٹی نامی ادارے کے بیان کے مطابق دو گراؤنڈ اسٹیشنوں میں دو الگ الگ سگنل ملے ہیں ۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر لوئیس فریڈ مین کا کہنا ہے’ میرے خیال میں ہمیں صبر سے کام لیکر کچھ اور انتظار کرنا ہوگا تاکہ صورت حال کا بغور جائزہ لیا جا سکے۔

لیکن روسی خلائی ایجنسی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس طیارے کو لیجانے والا راکٹ بوسٹر پرواز کے 83 سیکنڈ بعد ناکام ہو گیا تھا۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر لوئیس فریڈ مین نے بھی خبردار کیا ہے کہ یہ طے کرنا کہ یہ کمزور سگنل واقعی کوسموس اوّل کے ہیں قبل از وقت ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہو سکتا ہے کہ طیارہ مدار میں داخل ہو گیا ہو لیکن اتنی بلندی پر نہ ہو جتنی کہ توقع کی جا رہی تھی۔

جہاز کو سورج کی روشنی کے ذرات یعنی فوٹون سے ایسے ہی دھکیلا جانا تھا جیسے بادبانی کشتی کو ہوا دھکیلتی ہے۔ روشنی کے ذرات جہاز کے آٹھ بلیڈوں سے ٹکرائیں گے اور اس کو آگے دھکیلیں گے۔

شمسی بادبانی خلائی جہاز کا تصور سائنس فکشن سے لیا گیا ہے۔ اس مشن کا مقصد شمسی بادبان کے تصور کے قابل عمل ہونے کو ثابت کرنا تھا۔

کچھ لوگوں کے خیال میں فوٹون سے چلنے والا یہ خلائی جہازپر دوسرے مشن کے مقابلے میں کم خرچ آئےگا۔

امریکی، یورپی، جاپانی اور روسی خلائی ادارے بھی ایسے ہی مشن پر کام کر رہے ہیں۔

روس میں بنا کوسموس اوّل ننیانوے کلوگرام وزنی ہے۔ پروگرام کے مطابق اس جہاز نے آٹھ سو چار کلومیٹر کی بلندی سے چار روز تک زمین کی تصاویر لینی تھیں۔ اس کے بعد خلائی جہاز کے پلاسٹک سے بنے آٹھ بلیڈ کھل کر تیس میٹر کے دائرے میں پھیل جائیں گے۔

ابتدائی طور پر سورج کی روشنی سے ہر روز جہاز کی رفتار میں ایک سو اکسٹھ کلومیٹر فی گھنٹے کا اضافہ ہوگا۔ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ خلائی جہاز کی رفتار تیز ہو جائےگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد