روشنی سے چلنے والا خلائی جہاز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بادبانی کشتی کی طرز پر روشنی کے ذرّات سے چلنے والا پہلا خلائی جہاز ایک نجی مشن پر روانگی کے لیے تیار ہے۔ اس مشن پر چالیس لاکھ ڈالر خرچ ہوں گے۔ کوسموس اوّل نامی اس مشن کے لیے آدھی رقم ایک ٹیلی ویژن سٹوڈیو سے آئے گی۔ جہاز کو سورج کی روشنی کے ذرات یعنی فوٹون ایسے ہی دھکیلیں گے جیسے بادبانی کشتی کو ہوا۔ روشنی کے ذرات جہاز کے آٹھ بلیڈوں سے ٹکرائیں گے اور اس کو آگے دھکیلیں گے۔ خلائی جہاز کو منگل کو بحرِ بیرنٹس میں ایک روسی آبدوز سے خلاء میں روانہ کیا جائےگا۔ کچھ لوگوں کے خیال میں فوٹون سے چلنے والا یہ خلائی جہاز دوسرے مشن کے مقابلے میں کم خرچ ہوگا۔ امریکی، یورپی، جاپانی اور روسی خلائی ادارے بھی ایسے ہی مشن پر کام کر رہے ہیں۔ منگل کو شروع ہونے والا مشن امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں پیسادینا میں دی پلینٹری سوسائٹی نامی ادارے کے وسائل سے ممکن ہوا ہے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا نے اس مشن سے حاصل ہونے والی معلومات میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ روس میں بنا کوسموس اوّل ننیانوے کلوگرام وزنی ہے۔ یہ آٹھ سو چار کلومیٹر کی بلندی سے چار روز تک زمین کی تصاویر لےگا۔ اس کے بعد خلائی جہاز کے پلاسٹک سے بنے آٹھ بلیڈ کھل کر تیس میٹر کے دائرے میں پھیل جائیں گے۔ ابتدائی طور پر سورج کی روشنی سے ہر روز جہاز کی رفتار میں ایک سو اکسٹھ کلومیٹر فی گھنٹے کا اضافہ ہوگا۔ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ خلائی جہاز کی رفتار تیز ہو جائےگی۔ مشن منگل کو گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق سات بج کر چھیالیس منٹ پر روانہ ہوگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||