ڈسکوری کی واپسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی خلائی شٹل ڈسکوری اپنے مشن کے بعد بحفاظت ایڈورڈ ائیر فورس بیس پر اتر گئی ہے۔ اس سے پہلے خلائی شٹل ڈسکوری کا عملہ امریکی ریاست فلوریڈا میں کینیڈی سپیس سنٹر میں اترنے کی تیاریاں مکمل کر رہا تھا جب موسم کی خرابی کے باعث اس کا زمین کی فضا میں داخلہ مؤخر کرنا پڑا۔ گزشتہ روز موسم کی خرابی کے باعث شٹل کے زمین کی فضا میں داخلے میں نوے منٹ کی تاخیر کا اعلان کیا گیا تھا لیکن بعد میں اس کام کو ایک دن کے لیے مؤخر کر دیا گیا۔ خلاء سے زمین کی فضا میں داخلہ مشن کا سب سے خطرناک مرحلہ ہوتا ہے۔ سن 2003 میں خلائی شٹل کولمبیا کے تباہ ہو جانے کے بعد یہ پہلا خلائی مشن تھا۔ شٹل کولمبیا اپنا مشن مکمل کرنے کے بعد زمین کی فضا میں داخل ہوتے ہوئے دھماکے سے پھٹ گئی تھی اور اس پر سوار ساتوں خلا نورد ہلاک ہو گئے تھے۔ موجودہ شٹل ڈسکوری کی یہ پرواز ایک طرح سے اس بات کا امتحان تھی کہ کولمبیا کے تباہ ہو جانے کے بعد بھی خلاء میں شٹل بھیجنے کا امریکی خلائی ایجنسی ناسا کا پروگرام جاری رہ سکتا ہے۔ اس شٹل کے ڈیزائن میں جو ترامیم کی گئیں ان پر ایک ارب ڈالر خرچ ہوا۔ اس کے باوجود مشن کی شروعات میں ہی خلائی شٹل کو گرمی سے بچانے والی ٹائلز کے درمیان پھنسے فوم کا ایک ٹکڑا ٹوٹ کر زمین پر جا گرا۔ مگر کولمبیا میں بھی اسی قسم کا مسئلہ ہوا تھا۔ اس بار خلا بازوں نے خلاء ہی میں شٹل کی مرمت کی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||