ڈسکوری کےواپسی کے سفر کا آغاز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی خلائی شٹل ڈسکوری نے بین الاقوامی خلائی سٹیشن سے کامیابی سے الگ ہو کراپنی واپسی کے پہلے مرحلے میں زمین کی طرف اپنےسفر کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سے قبل امریکی خلائی ادارے ناسا نےشٹل کی مرمت کے بعد اس کی درستگی کا اعلان کیاتھا۔ واضح رہے کہ شٹل کے نچلے حصے میں گرمی سےمحفوظ کرنے والی ٹائلز کے درمیان پھنسی سرامک کے کپڑے سے بنی پٹیاں نکالی گئی تھیں کیونکہ ناسا کے ماہرین کو تشویش تھی کہ زمین کی فضاء میں داخل ہونے پر کہیں یہ پٹیاں شٹل کے کچھ حصوں کو ضرورت سے زیادہ گرم نہ کردیں۔ ماہرین کوامید ہے کہ شٹل پیر کو بحفاظت زمین پر اترنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ دو ہزار تین میں خلائی شٹل کولمبیا کی تباہی کے بعد خلا میں بھیجا جانے والا یہ پہلا خلائی مشن ہے۔ بین الاقوامی خلائی سٹیشن کو چھوڑنے کے بعد شٹل اس کے گرد گھوم کر اس کے تمام حصوں کی ہرزاویے سےتصاویر اتارے گی۔ خلائی شٹل کی اس پرواز کے ڈائریکٹر پال ہل نےصحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے کچھ حصوں کی کوئی تصویر ادارے کے پاس موجود نہیں ہے۔ جو تصاویرہیں وہ دوہزار دو میں سٹیشن پر بھیجے گئے ایک آربیٹر کی مدد سے اتاری گئی تھیں۔ اس مشن میں آئی مشکلات کے بعد ناسا کا ارادہ ہے کہ وہ اس مسئلے کو حل کرنے تک کسی خلائی مشن کو بین الاقوامی خلائی سٹیشن نہیں بھیجےگا۔ ہل کا کہنا ہے کہ ناسا ڈسکوری کے زمین پر واپسی کے حوالے سے فکرمند ہے۔ توقع ہے کہ یہ خلائی شٹل پیرکی صبح کینیڈی سپیس سینٹر کے قریب کیپ کینویرل پراترے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||