آسمان کے پراسرار بادلوں پر تحقیق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی خلائی ادارہ ناسا اس سال سطح زمین سے بلند اور انتہائی پراسرار خیال کیے جانے والے بادلوں کے بارے میں تحقیق کے لیے مشن تشکیل دے گا۔ نائٹ شائننگ یا رات میں چمکنے والے یہ بادل شام کے وقت لچھوں یا گچھوں کی شکل میں آسمان پر نظر آتے ہیں اور سطح زمین سے ان کی اونچائی اسی کلو میڑ یا پچاس میل تک ہوتی ہے۔ ان بادلوں کے بارے میں حالیہ اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ یہ انتہائی چمکدار، زیادہ تعداد میں اور عام حالات کے برخلاف کم بلندی پر دیکھے جارہے ہیں۔ سائنسدان اس بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتے تاہم انہیں شک ہے کہ انسانی کارروائیاں ماحولیات میں ان تبدیلیوں کا باعث ہیں جو ان بادلوں کی تشکیل کا سبب بنتی ہیں۔ امریکہ کی ریاست ورجینا کی ہیمپٹن یونیورسٹی کے ڈاکٹر جیمز رسل نے بتایا کہ رات کو چمکنے والے یہ بادل پہلی مرتبہ اٹھارہ سو پچاسی میں سیاروں کے شوقین ایک برطانوی کو نظر آئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ’اگر آپ ان کو دیکھیں تو یہ بہت خوب صورت ہوتے ہیں ان میں کئی نمایاں خوصیات ہوتی ہیں۔ جیسے ان میں لچھے اور لہریں ہوتی ہیں۔ جیمز رسل اس سپیس کرافٹ ٹیم کے اعلی تحقیقات کار ہیں جو ان بادلوں کے بارے میں تحقیق کرے گا۔ 195 کلو گرام وزنی یہ مصنوعی سیارہ ایک راکٹ کی مدد سے خلا میں چھوڑا جائے گا۔ اے آئی ایم میں نصب تین آلات ان بادلوں کی بناوٹ کے بارے میں پتہ لگائیں گے۔ جیسے کہ ان کا بہت زیادہ سرد ہونا، ان میں پانی کے بخارات اورمٹی کے چھوٹے ذرات کی موجودگی اور ان ذرات کے اطراف میں پانی منجمند ہو کر کیسے برف بن جاتا ہے وغیرہ۔ سائنسدانوں کا خیال ہے مٹی کے یہ ذرات زمین سے نہیں بلکہ خلا سے آتے ہیں۔ اگرچہ خیال کیا جاتا ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس وجہ سے زمین کا درجہ حرارت بھی بڑھا ہے۔ ڈاکٹر رسل کا کہنا تھا کہ’بادلوں کے حوالے سے ہم تمام تبدیلیوں پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور ہمارے مشن کا مقصد ان بادلوں کی بناوٹ کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنا ہے جو ہمیں آگے چل کی ان کی ساخت کے بارے میں جاننے میں مدد دیں گی‘۔ | اسی بارے میں ڈسکوری سے فوم ٹکرایا ہوگا: ناسا28 July, 2005 | نیٹ سائنس ناسا کا نیا مشن21 November, 2004 | نیٹ سائنس ناسا اگلے خلائی مشن کے لیے تیار30 October, 2004 | نیٹ سائنس ناسا کی نئی دوربین25 August, 2003 | نیٹ سائنس ناسا خلائی شٹل کی روانگی مؤخر15 March, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||