سورج گرہن کا عمل مکمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگولیا کی شمالی سرحد پر سورج کے غروب ہونے کے ساتھ ہی سورج گرہن کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ سورج گرہن کا آغاز برازیل سے ہوا اور تین گھنٹے کے بعد یہ عمل اپنے اختتام کو پہنچا۔ یہ سورج گرہن براعظم افریقہ اور ایشیا کے ممالک سے ہوتا ہوا منگولیا میں ختم ہوا۔ مکمل گرہن کے دوران ان علاقوں پر مکمل تاریکی چھاگئی اور سورج نے روشنی کے ایک دائرے کی شکل اختیار کر لی۔ اس دوران ماہرین فلکیات اور سائنسدانوں نے سورج کی’کورونا‘ نامی اس سطح کا مطالعہ بھی کیا جسے عام طور پر دیکھنا ناممکن ہے۔ بہت سے ماہرین فلکیات نے یہ نظارہ دیکھنے کے لیئے لیبیا کا رخ کیا کیونکہ وہاں یہ نظارہ چار منٹ سات سیکنڈ تک دیکھا گیا۔ گھانا سے منگولیا تک کے 14500 کلومیٹر کے علاقے میں چاند نے کئی منٹوں کے لیئے سورج کی سطح کو مکمل طور پر ڈھانپ لیا۔ برطانیہ کی شاہی مشاہدہ گاہ سے منسلک ایک سینیئر ماہر فلکیات رابٹ میسے کہتے ہیں کہ یہ ایک زبردست نظارہ تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اتنا زبردست اور خاص موقع ہے کہ کوئی بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
سورج گرہن دراصل وہ وقت ہے جب دن رات میں بدل جاتا ہے اور چاند کا تاریک سایہ سورج کی روشنی کو چھپا دیتا ہے۔ اس موقع پر آسمان کا نظارہ کرنے کے شوقین افراد کو متنبہ کیا گیا تھا کہ وہ گرہن کے دوران سورج کی طرف براہ راست دیکھنے سے گریز کریں۔ برطانیہ میں اسے مقامی وقت کے مطابق 10:45 سے لے کر 12:25 تک دیکھا گیا۔ گزشتہ 25 سال میں 16 بار سورج گرہن ہوچکا ہے۔اگلا سورج گرہن یکم اگست 2008 کو دیکھا جاسکے گا۔ | اسی بارے میں زمین کو اپنا ہم مزاج چاند مل گیا؟12 September, 2005 | نیٹ سائنس کائنات کی حدوں پر نور کے فوّارے13 September, 2005 | نیٹ سائنس اٹھارہ کروڑ میل دور سیارے کا ٹکڑا 26 November, 2005 | نیٹ سائنس کائنات کےاربوں سال پرانےذرّات حاصل15 January, 2006 | نیٹ سائنس زمین جیسا سیّارہ دریافت26 January, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||