زمین کو اپنا ہم مزاج چاند مل گیا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تحقیق کاروں نے کہا ہے کہ نظامِ شمسی میں زمین اور زحل کے چاند (ٹائٹن) دونوں ہی اپنے سائز اور سورج سے اپنے اپنے فاصلے کی وجہ سے ایک دوسرے سے کافی ملتے جلتے ہیں۔ تحقیق کرنے والوں کے مطابق زمین پر جو تغیرات اور حوادث ہوتے ہیں ان سے ملتے جلتے اکثرحوادث زحل کے چاند پر بھی وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ ٹائٹن کی سطح پر جو تبدیلیاں آ رہی ہیں ان کا ایک سبب ہوا، بارش اور آتش فشانوں کا پھٹنا ہے۔ ایک سائنس دان نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ زحل کے چاند پر جہاں درجۂ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے رہتا ہے، انسانی زندگی کو بقا حاصل ہو سکتی ہے۔ ایک دوسرے ماہرِ فلکیات جوناتھن لونائن کا کہنا ہے کہ ٹائٹن نظامِ شمسی کا وہ چاند ہے جو عوامل کے توازن کی حد تک زمین سے سب سے زیادہ ملتا جلتا ہے۔ جوناتھن امریکہ میں ایریزونا یونیورسٹی میں تحقیق کار ہیں۔ ان کے خیال میں زحل کے چاند پر وہ سب کچھ ہو سکتا ہے جو زمین پر ہے یعنی وہاں ہوائیں بھی ہیں، دریائی راستے بھی ہیں، بارش کا ثبوت بھی ہے، ممکنہ طور پر جھیلیں بھی ہیں اور کچھ اور ایسے زمینی وصف بھی جو آتش فشانوں کا پتہ دیتے ہیں۔ ٹائٹن پر ہونے والی تبدیلیاں اگرچہ زمین پر ہونے والی تبدیلیوں جیسی ہیں لیکن ان تبدیلیوں کے اسباب دنوں جگہوں پر مختلف ہیں۔ مثلاً زمین پر پانی جو کام کرتا ہے زحل کے چاند پر وہی کام میتھین گیس کرتی ہے۔ زمین اور ٹائٹن میں اشتراک کا سبب یہ ہے کہ دنوں ہی نظامِ شمسی میں خاص مقامات پر اقع ہیں جس کے لیے سائز یا کمیت میں اور سورج سے فاصلے میں ایک خاص توازن درکار ہے۔ اور یہ توازن دنوں میں پایا جاتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||