زحل کے چاند پر میتھین کی بارش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی خلائی روبوٹ ہوئیگنز نے حال میں زحل کے چاند ٹائٹن سے جو تصاویر بھیجی ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں موجود دریاؤں، جھیلوں اور ندیوں میں بہنے والا مائع اصل میں میتھین ہے۔ سائینسدان ہوئیگنز سے ایسی بہت سی معلومات بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جن کے بارے میں پہلے خیال کیا جارہا تھا کہ وہ ہوئیگنز سے رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ شائد حاصل نہیں ہو پائیں گی۔ ہوئیگنز جنوری کی چودہ تاریخ کو زحل کے چاند ٹائیٹن کی فضا میں داخل ہوا تھا اور وہاں سے نہایت خوبصورت تصاویر اور ڈیٹا بھیجنا شروع کردیا تھا۔ ہوئیگنز کی کنٹرول کرنے والی سائینسدانوں کی ٹیم نے جمعے کے روز پیرس میں ایک اخباری کانفرنس میں ہوئیگنز سے ملنے والی مزید معلومات کے بارے میں بتایا۔ سائینسدانوں کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اب اس بات کے ثبوت تو موجود ہیں کہ ٹائیٹن پر بھی زمین کی طرح بارش جیسے قدرتی مظاہر ہوتے ہیں لیکن ان مظاہر میں زمین کے برعکس مختلف قسم کے عناصر شامل ہوتے ہیں مثلاً وہاں بارش پانی کی بجائے میتھین کی ہوتی ہے۔ اور یہ بھی خیال کیا جارہا ہے کہ میتھین کی یہ بارش ٹائیٹن کی سطح پر موجود کسی اور مادے کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتی ہے۔ سائینسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ان کی خوش قسمتی تھی کہ ہوئیگنز ٹائیٹن پر ایسی جگہ پر اترا جہاں سے بہتر تصاویر مل سکیں۔ ہوئیگنز کے مشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اب وہ یہ چاہیں گے کہ ٹائیٹن پر ویسا ہی روبوٹ بھیجا جائے جیسا مریخ پر ناسا نے بھیجا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||