خلائی جہاز زحل کے چاند پر اتر گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی خلائی ادارے کے سائنسدانوں نے کہا ہے کہ خلائی جہاز ہوئی گنز زحل کے چاند ٹائیٹان کی سطح پر اترنے کے بعد کامیابی سے سگنلز بھیج رہا ہے۔ ہوئی گنز نے ٹائیٹان کی سطح پر اترنے سے دو گھنٹے پہلے اس وقت سے سگنلز بھیجنے شروع کردیے تھے جب وہ ٹائیٹان کی فضا میں داخل ہوا تھا۔ یہ سگنلز ابھی زمین پر تو نہیں پہنچے ہیں تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ راستے میں ہیں اور امریکی ٹیلی سکوپ نے ان سگنلز کی آمد جان لی ہے۔ ہوئی گنز جمعہ کی صبح ٹائیٹان کی فضا میں داخل ہوا تھا جس کے بعد اس کے پیراشوٹ کھل گئے اور اس نے ٹائیٹان کی فضا کے خاکے اور دیگر مشاہدات بھیجنے شروع کیے۔ زحل کے چاند کی پراسرار دنیا کی تحقیقات شاید یہ واضح کرسکیں گی کہ کرہ ارض پر زندگی کس طرح وجود میں آئی تھی۔ یہ زمین سے سب سے زیادہ دوری پر کیا جانے والا تجربہ ہے۔ زحل کا چاند نارنجی رنگ کے غبار میں لپٹا ہوا ہے جس سے اس کی سطح کی خصوصیات جاننا مشکل ہوگیا ہے۔ ممکن ہے کہ ہوئی گنز برفیلی چٹانوں پر جا اترے یا پھر تیل کے سمندر میں ڈوب جائے۔ ابھی اس بارے میں یقینی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔ یہ خلائی جہاز ٹائیٹان کی 750 تصاویر لے گا۔ سائنسدان اس پراسرار دنیا کے راز جاننے کے لیے بے چین ہیں۔ ہوئی گنز کی بھیجی جانے والی معلومات سے ٹائیٹان کی آب و ہوا اور کیمیاوی ساخت کے بارے میں تفصیلات سامنے آسکیں گی۔ ٹائیٹان کی سطح پر آنے والی آوازوں کو بھی ریکارڈ کیا جائے گا۔ ٹائیٹان پر نائٹروجن، میتھین اور دیگر کیمیائی مواد پائے جانے کی بنیاد پر سائنسدان یہ قیاس کرتے ہیں کہ تقریباً ساڑھے چھ ارب سال پہلے ٹائیٹان کا ماحول زمین کے ماحول سے مشابہت رکھتا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||