کائنات کی حدوں پر نور کے فوّارے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماہرین فلکیات نے کائنات میں اب تک سب سے زیادہ فاصلے پر دھماکے دیکھے ہیں۔ یہ دھماکے دراصل گاما شعائیں ہیں جو کائنات کے کنارے پر نمودار ہوئی ہیں۔ گاما شعائیں توانائی کی ایسی لہریں ہیں جو اچانک کہکشاؤں کے پار سے نظر آ جاتی ہیں۔ یہ شعائیں چند منٹوں میں اتنی توانائی خارج کرتی ہیں جتنی سورج دس ارب سال میں خارج کرے گا۔ گاما شعاؤں کا یہ مظاہرہ سوِفٹ نامی خلائی خوردبین اور زمین پر کئی رصدگاہوں سے دیکھا گیا ہے۔ گاما شعاؤں کا یہ مظاہرہ تین منٹ جاری رہا اور یہ زمین سے تیرہ ارب نوری سال کے فاصلے پر پیش آیا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کائنات کی دوریوں میں جھانکنے سے اس کی ابتداء کے بارے میں معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔ خیال ہے کہ گاما شعاؤں کے نظر آنے والے تازہ ترین دھماکے کا تعلق اس دور سے تھا جب ستارے اور کہکشائیں پہلی بار تخلیق پا رہی تھیں۔ ایسا ’بِگ بینگ‘ یعنی اس دھماکے کے ایک ارب سال بعد ہوا جسے کائنات کی ابتدا کہا جاتا ہے۔ گاما شعاؤں کو اس طرح آخری بار چار ستمبر کو دیکھا گیا اور سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ایسا غالباً کسی ستارے کے ختم ہونے سے ہوا ہے |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||