امریکی ماہرین فلکیات نے کہا ہے کہ انہوں نے پہلی بار ایک ایسی ستارے کی نشاندہی کی ہے جو ہماری کہکشاں مِلکی وے کو چھوڑ رہا ہے۔ ہارورڈ سمِتھ سونین سینٹر فار ایسٹروفزکس کے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ ستارہ کسی بلیک ہول کے قریب سے گزرتے وقت اُس کی کشش کے زیر اثر ہماری کہکشاں سے الگ ہوگیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ستارہ اب بیس لاکھ کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے خلا میں موجود خالی پن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ سائنسی نظریہ کے مطابق خلا میں موجود بلیک ہول ایک ایسی حالت ہے کہ اُس میں جو چیز داخل ہوجائے وہ وہاں سے کبھی نہیں نکل سکتی۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس سے قبل کسی ستارے کو اس قدر تیز رفتاری سے کہ وہ کہکشاں کو بھی چھوڑ دے سفر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔ |