BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 February, 2004, 09:06 GMT 14:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ھبل دوربین
ھبل دوربین کی مدد سے کائنات میں دور تک دیکھا جا سکا
سائنسدانوں نے کہا کہ انہوں نے حبل اور کیک نامی دوربینوں کے ذریعے کائنات میں اب تک سب سے زیادہ فاصلے پر نظر آنے والی چیز دیکھی ہے۔ یہ چیز دراصل ستاروں کا ایک چھوٹا سا سلسلہ ہے۔

ستاروں کا یہ سلسلہ اتنی دور ہے کہ اس کی روشنی زمین تک پہنچنے کے لئے اس وقت چلی ہوگی جب کائنات کی عمر صرف ساڑھے سات سو ملین سال تھی۔

اس نئی دریافت کی تفصیلات امریکہ میں کیلی فورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں نے فراہم کی ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے حبل دوربین کا اہمیت کا اندازہ ہوتا اور انہوں نے امریکہ میں خلائی تحقیق کے ادارے ناسا سے کہا کہ وہ حبل دوربین کی معمول کی دیکھ بھال ختم کرنے کا فیصلہ واپس لے۔

ناسا نے کہا تھا کہ وہ حبل کی دیکھ بھال کے لئے اب کوئی خلائی گاڑی اس تک نہیں بھیجے گا۔ ماہرین کے مطابق دیکھ بھال نہ ہونے کی صورت میں حبل صرف آئندہ تین سال تک کائنات کی تصویریں بنا سکے گی۔

دریافت ہونے والا نیا سلسلہ پہلی بار کہکشاؤں کے ایبل 2218 نامی جھُنڈ کی تصاویر میں نظر آیا تھا۔ یہ ستارے جھُنڈ کا حصہ ہے بلکہ اس سے بہت زیادہ دور ہیں۔

ستاروں کے اس سلسلے کے دو سروں کا درمیانی فاصلہ دو ہزار نوری سال ہے۔ زمین جس کہکشاں کا حصہ ہے اس کے دو سروں کے درمیان ساٹھ ہزار نوری سال کا فاصلہ ہے۔

بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد