ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنسدانوں نے کہا کہ انہوں نے حبل اور کیک نامی دوربینوں کے ذریعے کائنات میں اب تک سب سے زیادہ فاصلے پر نظر آنے والی چیز دیکھی ہے۔ یہ چیز دراصل ستاروں کا ایک چھوٹا سا سلسلہ ہے۔ ستاروں کا یہ سلسلہ اتنی دور ہے کہ اس کی روشنی زمین تک پہنچنے کے لئے اس وقت چلی ہوگی جب کائنات کی عمر صرف ساڑھے سات سو ملین سال تھی۔ اس نئی دریافت کی تفصیلات امریکہ میں کیلی فورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں نے فراہم کی ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے حبل دوربین کا اہمیت کا اندازہ ہوتا اور انہوں نے امریکہ میں خلائی تحقیق کے ادارے ناسا سے کہا کہ وہ حبل دوربین کی معمول کی دیکھ بھال ختم کرنے کا فیصلہ واپس لے۔ ناسا نے کہا تھا کہ وہ حبل کی دیکھ بھال کے لئے اب کوئی خلائی گاڑی اس تک نہیں بھیجے گا۔ ماہرین کے مطابق دیکھ بھال نہ ہونے کی صورت میں حبل صرف آئندہ تین سال تک کائنات کی تصویریں بنا سکے گی۔ دریافت ہونے والا نیا سلسلہ پہلی بار کہکشاؤں کے ایبل 2218 نامی جھُنڈ کی تصاویر میں نظر آیا تھا۔ یہ ستارے جھُنڈ کا حصہ ہے بلکہ اس سے بہت زیادہ دور ہیں۔ ستاروں کے اس سلسلے کے دو سروں کا درمیانی فاصلہ دو ہزار نوری سال ہے۔ زمین جس کہکشاں کا حصہ ہے اس کے دو سروں کے درمیان ساٹھ ہزار نوری سال کا فاصلہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||