ستاروں کاجھرمٹ، کہکشاؤں کا تصادم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زمین سےدس کروڑ نوری سال کے فاصلے پر حوت کے نام سے پہچانے جانے والے ستاروں کے جھرمٹ میں دو کہکشائیں آپس میں ٹکرا گئی ہیں۔ یہ دونوں کہکشائیں مشترکہ طور پر ’این جی سی 250‘ کہلاتی ہیں۔ اس تصادم کے نتیجے میں ان دونوں کی شکل تبدیل ہو گئی اور ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ اس ٹکراؤ سے نئے ستارے وجود میں آ رہے ہیں۔ ماہرین فلکیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس تصادم سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آج سے پانچ ارب سال بعد ہمارے سیارے کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ پانچ ارب سال بعد ہماری کہکشاں اپنی ہمسایہ اینڈرومیڈا کہکشاں میں ضم ہو جائے گی اور نظامِ شمسی کی تباہی کا باعث بنے گی۔ ان دو کہکشاؤں کا تصادم گزشتہ ماہ جزیرہ ہوائی میں موجود ’ جیمنائی نارتھ‘ دوربین سے ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس دوربین کے خالق اور برطانیہ کے ادارہ فلکیات کے ڈائریکٹر پروفیسر این روبسن کا کہنا تھا کہ ’ جب میں نے یہ مناظر دیکھے تو مجھے جھرجھری آ گئی۔ ہمارے پاس پانچ ارب سال ہیں جس کے بعد اینڈرومیڈا ہمیں ہڑپ لے گی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بہت حیران کن تھا کہ ہم پہلے ہی دیکھ سکتے ہیں کہ ہماری اپنی کہکشاں کس طرح ختم ہو گی اور میں بہت خوش ہوں کہ اس وقت میں زندہ نہیں ہوں گا‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||