کائنات کےاربوں سال پرانےذرّات حاصل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک خلائی کیپسول کائنات سے دھول اکھٹی کر کے سات سال بعد زمین پر واپس اتار لیا گیا ہے۔ یہ دھول ’وائلڈ ٹو‘ نامی دم دار ستارے سے حاصل کی گئی۔ امریکی خلائی گاڑی ’سٹارڈسٹ‘ نے تین ارب میل کا سفر طے کرنے کے بعد زمین کے پاس سے گزرتے ہوئے دھول والے کیپسول کو زمین کی طرف روانہ کر دیا۔ اجرام فلکی کی دھول لیے ہوئے مذکورہ کیپسول امریکی صحرا یوٹاح میں گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق دس بج کر بارہ منٹ پر اترا۔ یہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی خلائی مشن سے اس طرح کا مواد حاصل کیا گیا ہے۔ اس سے قبل انیس سو چھہتر میں سوویت خلائی جہاز چاند سے پتھر اور مٹی لے کر آیا تھا۔ سٹارڈسٹ اپنے مشن کے بعد اب مستقل زمین کے مدار میں چکر لگائے گی۔ اس کو سن انیس سو ننانوے میں دم دار ستارے وائلڈ ٹو کے گرد سے دھول حاصل کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ سٹارڈسٹ جنوری دو ہزار چار میں وائلڈ ٹو سے دو سو چالیس کلومیٹر کے فاصلے تک گیا اور وہاں سے ذرات اکھٹے کیے۔ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اس سفر کے دوران خلائی گاڑی نے دور دراز ستاروں سے اٹھنے والی دھول بھی حاصل کی ہو گی۔ دنیا بھر میں سینکڑوں سائنسدان سٹارڈسٹ کے ذریعے حاصل کیے گئے ذرات کا تجزیا کرنے کے منتظر ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دم دار ستاروں پر ایسا مواد ہے جو سیاروں اور سورج کے قیام کے وقت سے تبدیل نہیں ہوا اور اس کے تجزیے سے ان کی پیدائش کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہوں گی۔ |
اسی بارے میں ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں06 April, 2005 | نیٹ سائنس کائنات کی حدوں پر نور کے فوّارے13 September, 2005 | نیٹ سائنس کائنات کی مصنوعی تخلیق کا تجربہ02 June, 2005 | نیٹ سائنس بلیک ہول کی تھیوری پر نظرثانی22 July, 2004 | نیٹ سائنس بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||