ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی محققین کا کہنا ہے کہ وہ یقین سے یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ ہماری اس زمین کے علاوہ بہت سی ایسی زمینیں بھی ہیں جن کا دریافت ہونا باقی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ اب تک دریافت کیے جانے والے سیاروں میں سے قریباً نصف پر زندگی موجود ہو۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر عجیب وغریب جگہیں ہوں گی جہاں عظیم الجثہ سیارے اپنے ستاروں کے نزدیک مدار میں گھوم رہے ہوں گے۔ سائنسدان بیری جونز اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان تمام عجیب وغریب سیاروں کے علاوہ کچھ چٹانی سیارے بھی موجود ہیں جہاں زندگی پائی جا سکتی ہے۔ اوپن یونیورسٹی کی تحقیقی ٹیم نے اپنی ریسرچ کا اعلان منگل کو برطانیہ میں ہونے والی قومی فلکیات کانفرنس میں کیا۔ اس ریسرچ میں سیاروں کی تشکیل کے لیے ضروری عوامل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس بات کا اندازہ لگایا گیا ہے کہ زمین جیسے کتنے اور سیارے اس کائنات میں موجود ہو سکتے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ نے کہا ہے کہ ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نصف سے زیادہ سیاروں کے ایسے نظام موجود ہیں جہاں زمین جیسے عوامل پائے جا سکتے ہیں اور زندگی پنپ سکتی ہے۔ تاہم ابھی تک ایسی دوربین تیار نہیں کی جا سکی ہے جس کی مدد سے ان ’ایکسٹرا سولر‘ یا اضافی شمسی سیاروں کا جائزہ لیا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بات حوصلہ افزاء ہے کہ زمین جیسے سیاروں کے بڑھنے کے لیے کافی وقت اور جگہ دونوں میسر ہیں۔ بیری جونز، نک سلیپ اور ڈیوڈ انڈروڈ کی اس تحقیق کو آسٹروفزیکل جرنل میں شائع کیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||