یورپ کا سپر راکٹ روانہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپ نے اپنا سب سے طاقتور سپرخلائی راکٹ ایریئن فائیو- ای سی اے کو فضا میں چھوڑا دیا ہے۔ پچاس میٹر لمبا یہ خلائی راکٹ ہفتے کے روز فرانس کے خلائی اسٹیشن کورو سے آٹھ ٹن وزنی خلائی ’پے لوڈ‘ کو لے کرفضا میں بلند ہوا۔ ای سی اے کی سن دوہزاردو میں ناکام پرواز کے بعد یہ پہلی پرواز ہے۔ سن دوہزاردو میں یہ بے قابو ہو کر سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ خلائی کمپنی ایریئن سپیس کا کہنا ہے کہ یہ خلائی راکٹ انہیں خلائی میدان میں اپنی مضبوط جگہ برقرار رکھنے میں بہت مدد دے گا۔ ایریئن سپیس کے چیف یان یوس لی گال نے کہا ہے کہ اس کامیابی کا انہیں بہت مدت سے انتظار تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان تمام لوگوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس منصوبے میں حصہ لیا۔ انہوں نے کہا اس کامیابی سے ماضی کی ناکامی کا داغ مٹ گیا ہے۔ ای سی اے سپر راکٹ کو مدار میں بھیجنے کی تیس ہزار سے چالیس ہزار ڈالر فی کلو گرام قیمت کو کم کر کے پندرہ ہزار سے بیس ہزار فی کلو گرام کرنا ہوگی۔ یہ راکٹ بیک وقت کئی خلائی سیارے فضا میں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ دس ٹن وزنی سیاروں کو مدار میں لے جاسکتا ہے۔ ہفتے کو خلاء میں روانہ ہونے والے راکٹ پر دو سیارے موجود ہیں جن میں سپین کا ایک دفاعی نوعیت کا مواصلاتی سیارہ ہے اور دوسرا شلوش سیٹ نامی ایک تجرباتی سیارہ ہے جو فضا میں سیال مادوں میں آنے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کرئے گا۔ ای سی اے مختلف یورپی ملکوں، خلائی کمپنیوں، بینکوں اور فرانس کے خلائی ادارے کی مشترکہ ملکیت ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||