خلا میں پہلی بار چہل قدمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر رہائش پذیر دو خلابازوں نے اپنے مشن کے دوران خلا میں پہلی بار چہل قدمی کی ہے۔ لیرائی چیاؤ اور سلیزان شری پوو نامی خلاباز خلائی سٹیشن کے بیرونی حصے پر نئے ہارڈوئیر کی تنصیب کے لیے باہر نکلے۔ یہ خلا باز اس دوران بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے نظامِ اخراج میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کا معائنہ بھی کریں گے۔ خلاباز بدھ کو برطانوی وقت کے مطابق صبح سات بج کر چالیس منٹ پر سٹیشن سے باہر آئے اور وہ ساڑھے پانچ گھنٹے تک خلا میں موجود رہیں گے۔ روسی خلائی مشن کے ترجمان ولیری لنڈن نے روسی خبر رساں ادارے تاس کو بتایا کہ خلائی لباس پہننے میں ہونے والی تاخیر کی بنا پر خلابازوں کی چہل قدمی انیس منٹ کی تاخیر سے شروع ہوئی۔ روسی خلائی مشن کا عملہ خلائی سٹیشن کے سٹبلائزر کی کارکردگی پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ اس بات کا پتہ چلایا جا سکے کہ خلا بازوں کی حرکت سے کہیں سٹیشن کے نظام پر زیادہ دباؤ تو نہیں پڑ رہا۔ اگست 2004 میں خلا بازوں کی ایک ایسی ہی چہل قدمی کے دوران خلائی سٹیشن کے کچھ پرزوں نے زیادہ دباؤ پڑنے کے بعد کام کرنا بند کر دیا تھا۔اس بندش کے نتیجے میں بیس منٹ تک خلائی سٹیشن کی کارکردگی متاثر ہوئی تھی۔ دسمبر 2004 میں بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر خوراک کی کمی کے نتیجے میں ہنگامی طور پر ایک خلائی جہاز کے ذریعے خلابازوں کو خوراک پہنچائی گئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||