خلا بازوں کو خوراک پہنچ گئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روسی مال بردار خلائی جہاز بین الاقوامی خلائی سٹیشن سے منسلک ہو گیا ہے۔ یہ خلائی جہاز جس پر کوئی انسان سوار نہیں خلائی سٹیشن میں کام کرنے والے خلا بازوں کے لیے خوراک لے کر گیا ہے۔ اس خلائی جہاز پر خلائی سٹیشن پر موجود عملے کے لیے ڈھائی ٹن خوراک، پانی، ایندھن اور آکسیجن کے علاوہ کرسمس کے تحائف بھی بھیجے گئے ہیں۔ اگر خوراک کی فراہمی کا یہ مشن ناکام رہتا تو خلائی سٹیشن پر موجود دونوں خلابازوں کو اسٹیشن چھوڑنا پڑتا۔ان خلابازوں کے پاس جنوری کے وسط تک کی خوراک باقی رہ گئی تھی۔ خلائی سٹیشن پر اس وقت ایک روسی اور ایک امریکی خلا باز موجود ہیں۔ ان دونوں کو خلائی سٹیشن پر دو ماہ ہونے والے ہیں۔ ضوابط کے مطابق اگر خلائی سٹیشن پر خوراک، پانی اور آکسیجن کا ذخیرہ اگلے پینتالیس دن کی ضروریات سے کم رہ جائے تو خلا بازوں کو سٹیشن چھوڑ دینا چاہیے۔ جمعہ کو قازقستان کے ایک خلائی مرکز سے ’پراگریس‘ نامی راکٹ اڑھائی ٹن پانی، خوراک اور آکسیجن لے کر خلائی سٹیشن کی طرف روانہ ہوا تھا۔ روسی اور امریکی حکام دسمبر کے شروع میں خوراک، پانی اور آکسیجن کے ذخیرے کی صورتحال دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق خلائی سٹیشن کے عملے کو ہنگامی حالت کے پیش نظر خوراک کم کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ خلائی سٹیشن پر طویل مشن کے لیے زمین سے ضروری اشیا کی مستقل فراہمی ضروری ہے۔ پراگریس نامی خلائی گاڑی اسی مسئلے کے حل کے لیے تیار کی گئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||