خلائی مشن کی واپسی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی خلائی ادارے ناسا نے کہا ہے کہ سن دو ہزار تین میں کولمبیا شٹل کی تباہی کے بعد پہلا خلائی مشن اگلے سال مئی یا جون کے اوائل میں بھیجا جائے گا۔ کولمبیا شٹل کے حادثے میں سات خلابازوں کے مارے جانے کے بعد تمام خلائی مشن معطل کر دیے گئے تھے شٹل کے فیول ٹینک نظام اور آربیٹر میں بھی تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ لانچنگ کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششوں کو اس وقت دھچکہ پہنچا تھا جب جولائی، اگست میں مشرقی فلوریڈا میں سمندری طوفان نے تباہی مچا دی تھی۔ کینیڈی خلائی مرکز بھی اسی ریاست میں واقع ہے۔ ناسا کے انسانی خلائی مشن کے سربراہ ولیم ریڈی نے کہا کہ خلائی مشن اگلے سال مئی میں دوبارہ شروع کرنےکا فیصلہ خلائی ایجنسی کے لیے باعثِ اطمینان ہے۔ سمندری طوفان نے ناسا کو خصوصاً متاثر کیا تھا۔ ساحل سے ٹکرانے والے چار میں سے تین طوفانوں نےفلوریڈا کےمشرقی ساحل پر واقع کینیڈی خلائی مرکز کومتاثر کیا تھا۔ سمندری طوفان سے پہلے ہی ناسا کے انجینیئر اس بات سے خبردار کر رہے تھے کہ شٹل کی اصلاح کا کام وقت سے پیچھے چل رہا ہے۔ حکام کے مطابق لانچنگ کے لیے دی گئی مئی کی تاریخوں میں بھی مزید تاخیر ہو سکتی ہے۔ کولمبیا شٹل کی تباہی کا سبب شٹل کے پر کو پہنچنے والا نقصان تھا۔ یہ واقعہ اس لیے پیش آیا کیونکہ حرارت جذب کرنے والا فوم لانچنگ کے وقت فیول ٹینک سے ٹوٹ گیا تھا۔ اس نقصان کا پتہ نہیں چل سکا تھا اور یہی بعد میں کولمبیا شٹل کی تبا ہی کا باعث بنا جب وہ دوبارہ زمین کے مدار میں داخل ہوئی۔ شدیدگرم ہوا شٹل کے پر میں داخل ہوئی اور دورانِ پرواز شٹل کی تباہی کا باعث بنی۔ یہ ایک سو تیرہ شٹل مشنز میں سے رونما ہونے والا دوسرا جان لیوا حادثہ تھا۔ خلائی مشن دوبارہ شروع کرنےکے بعد اٹھائیس کے قریب نئے مشن بھیجنے کا منصوبہ ہے جن میں زیادہ تر بین الاقوامی خلائی سٹیشن کی تعمیر سے متعلق ہوں گے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ شٹل کا بیڑہ بہت پرانا اور بہت مہنگا ہے اور سٹیشن کی تعمیر میں ایک بار استعمال ہونے والے راکٹوں کااستعمال زیادہ کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||