بلیک ہول کی تھیوری پر نظرثانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے معروف سائنسدان سٹیفین ہاکِنگ نے کائنات میں بلیک ہول کی اپنی تھیوری پر نظر ثانی کرکے سائنسدانوں کو اس موضوع پر نئے طریقے سے سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ بلیک ہول کائنات میں تاریک گہرائیوں کی مانند ہیں جن کے اندر ایسی مقناطیسی کشش ہے جو ہر چیز کو اپنے اندر کھینچ لیتی ہے۔ تیس سال سے قائم اسٹیفین ہاکِنگ کا نظریہ یہ تھا کہ کوئی مادہ بلیک ہول میں جانے کے بعد ہمیشہ کے لئے غائب ہوجاتا ہے۔ ان کی اس تھیوری کے حساب سے بلیک ہول کی مقناطیسی کشش سے کوئی چیز نہیں بچ سکتی، یہاں تک کہ روشنی بھی نہیں۔ ان کی اس تھیوری پر سائنسدان ہمیشہ فکرمند رہے ہیں کہ بلیک ہول میں جانیوالا مادہ آخر کہاں چلا جاتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں ہاکنگ نے اس امکان کا اظہار کیا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ بلیک ہول میں جانیوالا مادہ تباہ نہیں ہوتا ہو بلکہ کسی دوسرے کائنات میں چلاجاتا ہے جو ہماری حقیقت سے بعید ہے۔ لیکن بدھ کے روز ڈبلِن میں انہوں نے سائنسدانوں کے ایک کانفرنس میں اس بات کا اعلان کیا کہ بلیک ہول کا اب تک کا ان کا نظریہ غلط تھا۔ اب وہ کہتے ہیں: ’’اگر آپ بلیک ہول میں کود پڑیں تو آپ کے مادے کی توانائی ہماری کائنات میں واپس آتی ہے، ایک جسمانی شکل میں نہیں جس میں اطلاعات ہوں اور جس طرح آپ پہلے سے رہے ہوں، بلکہ ایک ایسی حالت/شکل میں جس کی نشاندہی آسان نہیں۔’’ سائنسدانوں سے خطاب میں پروفیسر ہاکنگ نے یہ ثابت کیا کہ بلیک ہول سے اطلاعات بہرحال واپس آتی ہیں۔ ان کی اس نئی سوچ کا مطلب یہ ہوگا کہ ماڈرن فیزکس کے اصول تبدیل ہوں گے اور خلاء اور کائنات کے وجود کے بارے میں سائنسدانوں کی سوچ میں تبدیلی آئے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||