نیٹ کمپنیوں کا نگرانی سےانکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کی انٹرنیٹ کمپنیوں نے حکومت کی جانب سے دی گئی اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے جس کے تحت کہا گیا تھا کہ انٹرنیٹ کمپنیوں کو مزيد اقدامات کر کے یہ پتہ لگانا چاہیے کہ صارفین انٹرنیٹ پر کیا کر رہے ہیں۔ انٹرنیٹ فراہم کرنے والی صنعتی ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ قانونی اور تکنیکی پیچیدگیاں انہیں محض ایک ذریعہ بننے سے زيادہ کچھ اور کرنے کی اجازت نہیں دیتی ہیں۔ حکومت کی جانب سے جاری کی گئی ایک دستاویز میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ مسلسل معلومات ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں اور کاپی رائٹ والے مواد کو تقسیم کرتے ہیں ایسے لوگوں کی انٹرنیٹ کی رسائی پر پابندی عائد کر دی جانی چاہیے۔ انٹرنیٹ سروس پرووائڈر ایسوسی ایشن کے ایک ترجمان کا کہنا ہے ’ 2002 کے آئی کامرس کے اصولوں کے مطابق انٹرنیٹ کمپنیاں محض ایک ذریعہ ہیں اور پورے نیٹ ورک پر جو مواد موجود ہے اس کے لیے ذمہ دار نہیں ہیں۔‘ دوسری جانب امریکہ میں کام کاسٹ کمپنی نے جو دستاویزات کمیونیکیشن کے قومی کمیشن کے سامنے پیش کیے ہیں، اس نے اعتراف کیا گیا ہے وہ ساتھ ساتھ نیٹ ورکس کے ٹریفک میں کچھ رکاوٹیں کھڑی کر دیتے ہیں۔ انٹرنیٹ سروس پرووائڈر ایسوسی ایشن کے ایک ترجمان کا کہنا تھا’ہمیں پتہ ہے انٹرنیٹ فراہم کرنے والی تمام کمپنیاں ٹریفک مینجمینٹ کر رہی ہیں لیکن ان کا یہ قدم تمام صارفین کو بہتر سروسز فراہم کرنے کے لیے ہے۔‘ ورجن میڈیا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ بھی شام چار بجے سے 9 بجے تک ٹریفک مینجمنٹ پر زور دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ’ اگر ضرورت سے زيادہ ڈاؤن لوڈنگ یا پھر دیگر چیزيں ریکارڈ کی جائيں گی تو اس صارف کی سروس پانچ گھنٹوں کے لیے معطل کر دی جائے گی۔‘ نیٹ مینجمنٹ کی ایک اور کمپنی ایپی ٹرو کے مینجنگ ڈائرکیٹر گاون جونس کا کہنا ہے کہ’ اگر کوئی کمپنی ٹریفک مینجمنٹ نہيں کرتی ہے تو وہ اس کاروبار میں زیادہ دن تک نہيں رہ پائے گی۔‘ تھنک براڈبینڈ کے مسٹر فرگیوسن کا کہنا ہے کہ ٹریفک مینجمنٹ بھلے ہی عام ہے لیکن انٹر نیٹ فراہم کرنے والی کمپنیاں مختلف طریقہ کار اپناتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ’ٹریفک مینجمنٹ کو بہت اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا ہے کیونکہ کئی مرتبہ اسے کمپنی کواس سے بینڈ وڈتھ کی قیمت کم کرنے میں مدد ملتی ہے اور صارفین کی امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں۔‘ |
اسی بارے میں آپریشن لال مسجد آن لائن15 July, 2007 | نیٹ سائنس ایشیا:سائبرسپیس میں اظہارِ آزادی04 May, 2006 | نیٹ سائنس آئی ٹی ماہرین کی کمی کا خدشہ06 January, 2006 | نیٹ سائنس انٹرنیٹ پر امریکہ کا کنٹرول15 November, 2005 | نیٹ سائنس پاکستان میں انٹرنیٹ کے دس سال12 August, 2005 | نیٹ سائنس انسٹنٹ میسجنگ کا انقلاب30 May, 2004 | نیٹ سائنس پاکستان:’نیٹ کے جیالے‘08 September, 2003 | نیٹ سائنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||