BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 May, 2004, 11:57 GMT 16:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انسٹنٹ میسجنگ کا انقلاب
بات چیت
دنیا بھر میں انٹرنیٹ کے ذریعے بات چیت کے لیے اے او ایل استعمال کرنے والوں کی تعداد پندرہ فی صد ماہانہ کی شرح سے بڑھ رہی ہے
انیس سو چھیانوے میں اسرائیل کی ایک چھوٹی سی غیر معروف کمپنی نے ایک ایسا سافٹ ویئر تیار کیا جسے انٹر نیٹ کے ذریعے استعمال کرکے دنیا بھر میں کہیں بھی بات چیت کی جا سکتی تھی۔

اس پروگرام کو انٹریٹ سے کسی قیمت کے بغیر ڈاؤن لوڈ کیا یا حاصل کیا جا سکتا تھا دیکھتے ہی دیکھتے اس پروگرام کو ڈاؤن لوڈ کرنے والوں کی تعداد اس قدر بڑھی کہ کہ انرٹیٹ کی دنیا میں ایک انقلاب آ گیا۔

اس پروگرام کی مقبولیت کی وجہ محض اس کا مفت ہونا ہی نہیں تھا بلکہ آناً فاناً تحریر کی ترسیل اور اس کا جواب حاصل ہونے کی وہ صلاحیت جس نے خط کو زندہ مکالمہ بنا دیا تھا۔ مزید یہ کہ اس پروگرام کو ڈاؤن لوڈ کرنے اور استعمال کرنے کے لیے کسی ماہرانہ تکنیکی صلاحیت کی بھی ضرورت نہیں تھی۔

آئی سی کیو کے نام سے شروع کیے جانے والے اس پروگرام کو ’آئی سیک یو‘ یا ’تمہیں میں ڈھونڈتا ہوں‘ بھی کہا جاتا تھا۔

اس پروگرام کے استعمال کرنے والوں کی تعداد دو سال میں گیارہ ملین یعنی ایک کروڑ دس لاکھ تک جا پہنچی جس کے بعد انٹرنیٹ کی عالمی طاقت امریکہ آن لائن یا اے او ایل کا اس کی جانب متوجہ ہونا ناگزیر تھا، سو اے او ایل نے انیس سو اٹھانوے میں یہ پروگرام دو سو ستاسی ملین ڈالر اٹھائیس کروڑ ستر لاکھ ڈالر میں خرید لیا۔

اس کے بعد کئی اور کمپینیوں نے بھی اس طرح کے پروگرام متعارف کرائے اور وہ دنیا کے مختلف حصوں میں مقبول بھی ہیں لیکن اے او ایل مغربی ملکوں کے بڑے حصے میں سب سے مقبول ہے۔

اب آپ دنیا میں کہیں سے بھی ہوں انٹریٹ کے ذریعے کہیں بھی اپنے دوستوں اور خاندان والوں سے بات چیت کر سکتے ہیں۔

انٹرنیٹ
کہیں سے کہیں بھی تحریر، تصویر اور آواز سبھی ممکن ہیں

اے او ایل کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ دو بلین یعنی دو ارب پیغامات کی ترسیل کرتے ہیں اور اوسطاً یہ پروگرام دن میں ڈیسک ٹاپ پر چھ گھنٹے کھلا رہتا ہے۔

اب یہ پروگرام محض تحریر تک محدود نہیں رہا اس میں نت نئی ترغیبات شامل ہوتی رہتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹریٹ یا اس کے ذریعے پیغام رسانی اب صرف نوجوانوں کے مشغلے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں ہر عمر اور ہر جنس کے لوگ شامل ہیں جو اپنی ضرورت کے مطابق اس سہولت کو استعمال کرتے ہیں۔

اے او ایل کی باربرا میکنیلی کہتی ہیں کہ ’کچھ اور ویڈیو، کچھ اور موسیقی اور کچھ اور گرافکس اس پروگرام میں شامل کرتے جایئے اور اسے پُر کشش بناتے جائیے، اس کے علاوہ جس قدر یہ انٹرایکٹو ہو گا اس قدر ہی اس کے چاہنے اور اسے استعمال کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد