آپریشن لال مسجد آن لائن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مواصلات کے موجودہ دور میں دنیا کا شاید ہی ایساکوئی بڑا واقعہ ہو جس کا پرتو آّپ کو انٹرنیٹ پر نہ ملے۔ اب گزشتہ ہفتہ اسلام آباد میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ سے منسلک واقعات کو ہی لے لیجیے۔ ایک طرف جہاں لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف کیے جانے والے فوجی آپریشن کے تحت شہر دھماکوں اور فائرنگ سے گونج رہا تھا وہیں اس واقعہ کے اثرات انٹر نیٹ پر ديگر بلاگز، آن لائن فورمز اور سوشل نیٹ ورکس پر بھی محسوس ہوئے۔ اس کی ایک مثال اسلام آباد میٹرو بلاگ ہے۔ دنیا کے پینتالیس سے زائد بڑے شہروں پر مشتمل میٹرو بلاگز میں مقامی بلاگرز وہاں کے حالات اور واقعات کے بارے میں بلاگ کرتے ہیں۔ اسلام آباد میٹرو بلاگ کے نام سے پہچانے جانے والے اس اجتماعی بلاگ پر بھی اسلام آباد کے رہائشی بلاگرز نے لال مسجد آپریشن پر اپڈیٹس ، لائیو بلاگ اور اظہار راۓ کیا۔ اسلام آباد میٹرو بلاگ پر آٹھ جولائی کو تقریبا رات ڈیڑھ بجے پوسٹ کیے جانے والے بلاگ میں لکھا گیا ’لال مسجد کے قریب کرفیو والے علاقہ سے تین زور دار دھماکوں کی آواز آئی ہے جن کی گونج جی۔ ٹین(سیکٹر) تک سنائی دی ہے۔ لڑائی اور فائرنگ کا سلسلہ دس منٹ پہلے پھر شروع ہو گیا ہے۔ یوں لگ رہا ہے کہ لال مسجد کے مکینوں نے اندر سے فائرنگ شروع کر دی ہے جس کا جواب فوج شیلنگ اور اپنی بندوقوں کے ذریعے دے رہی ہے۔ مگر وقفوں کے بعد ہونے والے یہ تین دھماکہ بہت زوردار تھے اور انسانی جانوں کی سلامتی کے لیے صرف خدا سے صرف دعا کی جا سکتی ہے ۔ یا خدا، اس سب میں ہمیں ہوشمندی عطا کر۔۔۔‘
مولانا عبدالعزیز کے برقعہ پہن کو فرار ہونے کی ناکام کوشش کے بعد چار جولائی کو ’بدنام برقعہ‘ کے عنوان سے لاہور میٹرو بلاگ پر برقعہ میں ملبوس مولانا عزیز کی گرفتاری کی تصویر شایع کر کے اس پر یوں تبصرہ کیا گیا ’چھپانا بچانا بچا کر چھپانا صدر مشرف نے سرکاری ٹیلی وژن سے نشر کیے جانے والے مولانا عزیز کے برقہ میں ملبوس انٹرویو پر ذرائع ابلاغ میں بے شک نارضگی کا اظہار کیا ہوگا جس کے بعد اس انٹرویو کو دوبارہ ٹی وی پر نشر نہیں گیا گیا۔ تاہم یو ٹیوب اور اس طرح کی اور وڈیو ویب سائٹس کے باعث اب اس انٹرویر اور آپریشن لال مسجد سے منسلک دیگر نیوز کوریج کو جب چاہے دیکھا جا سکتا ہے۔ دس جولائی کو عبدالرشید غازی کی ہلاکت کے بعد اسلام آباد میٹرو بلاگ پر گیارہ جولائی کو پوسٹ کیے جانے والے بلاگ میں اے فار پیائن ایپل لکھتے ہیں ’دس جولائی دوہزار سات اسلام آباد بلکہ پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم دن تھا۔ لال مسجد کے خلاف کاروائی اور اس (مسجد) سے منسلک واقعات کے ہونے کے بعد ہمیں سوچنا چاہیے کہ معاملات کیسے بگڑے اور یہ انتہا پسندی کیسے شروع ہوئی اور کیا یہ حقیقتاً انتہا پسندی ہی تھی؟ اسی بلاگ پر ایک قاری جےجے نے یوں تبصرہ کیا ’اسلحہ سے لیس ایک دہشت گرد جس نے بچوں اور عورتوں کو یرغمال بنا رکھا ہو، اسے حکومت کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے لیے شرائط رکھنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ اسے اپنی اور دوسرے درجنوں لوگوں کی جانيں بچانے کے لیے غیر مشروط طورپر ہتھیار ڈال دینے چاہیں تھے۔ یہ کام فوجی آپریشن سے پہلے، یہ اس کاروائی کے پہلے یا دوسرے روز یا پھر آخری روز بھی کیا جا سکتا تھا۔ میرا نہیں خیال تاریخ میں کسی کو اتنے مواقع دیے گۓ ہوں گے اور حکومت نے ان دونوں (مولوی) بھائیوں کے لیے نہایت نرمی کا مظاہرہ کیا یہاں تک کہ ان کو نظر انداز بھی کیا ۔۔۔‘
جس وقت میں یہ ڈائری لکھ رہی ہوں تو لال مسجد آپریشن کی گولہ باری، فائرنگ اور شیلنگ کی آوازيں تو اب تھم چکی ہیں مگر اس واقعہ کے بعد ديگر آن لائن فورمز میں پاکستان میں مدارس کا مستقبل، بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور بین الاقوامی برادری میں پاکستان کی حیثیت پر سوالیہ نشان زیر بحث ہیں۔ لوگوں کو ان بلاگز اور فورمز کے ذریعے سیاسی و ملکی حالات اور سرکاری اقدامات پرکھل کر اظہار راۓ کرتے ہوۓ پانے سے اس بات کی توثیق ہوتی ہے کہ انٹرنیٹ ایک عام شہری سے لے کر شہری و حکومتی امور پر راۓ رکھنے والے ہر شخص کے لیے ایک آزاد اور منفرد پلیٹ فارم ہے۔ تاہم انٹر نیٹ پرآزادی اشاعت ہمیشہ یکساں نہيں ہوتی جیسا کہ ماضی میں بلاگ سپاٹ اور دیگر بلوچ ویب سائٹس پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ خود لال مسجد کی ویب سائٹ کو اپریل میں حکومت کی جانب سے فرقہ واریت پھیلانے اور امن و امان کو خراب کے الزام میں بند کر دیا گیا تھا۔ تاہم اسی ماہ حکومت نے لال مسجد کی انتظامیہ سے مذاکرات کے بعد مسجد کی ویب سائٹ پر لگائی گئی پابندی اٹھا لی تھی۔ البتہ بائیس مئی کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے جاری کردہ ہدایت نامے کے مطابق ملک کی انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو لال مسجد سمیت چند اور ویب سائٹس تک رسائی روکنے کا حکم دیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||