انٹرنیٹ کی شکل بدل جانے کا خدشہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنشینل نے مطالبہ کیا ہے کہ آن لائن آزادیوں کو دبانے کی کوشش کرنے والے ممالک کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر نیٹ پر سنسر شپ کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا تو پھر اس کی ہیئت ہی بدل سکتی ہے۔ اس خدشے کا اظہار تنظیم کی جانب سے منقعد کی جانے والی کانفرنس کے آغاز سے قبل کیا گیا ہے۔ اس کانفرنس میں ریاستی سنسر شپ کا شکار ہونے والے افراد اپنے ساتھ پیش آنے والی صورت حال پر روشنی ڈالیں گے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر خیالات کے اظہار کو دبانے کے وائرس کا دائرہ اب کئی ملکوں کی حکومتوں تک پھیل گیا ہے۔ ایمنسٹی نے انٹرنیٹ کمنپیوں گوگل، مائیکرو سافٹ اور یاہو پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بھی اس مسئلہ میں برابر کی حصہ دار ہیں۔
تنظیم کے ڈائریکٹر ٹم ہینکُک کا کہنا تھا:’انٹرنیٹ پر ریاستی سنسر شپ کے حوالے سے چین کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں معاشی ترقی کی تو اجازت ہے مگر آزادئ اظہار پر پابندی ہے اور یہ انداز مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ ایسے ممالک کی تعداد پانچ سال قبل محدود تھی تاہم آج درجنوں تک پہنچ گئی ہے جو مختلف سائٹس پر پابندی لگا دیتے ہیں اور بلاگرز کو گرفتار کر لیتے ہیں۔ ہمیں کم سے کم اس معاملے میں کوئی قدم اٹھانا چاہیے۔ بصورت دیگر آنے والے برسوں میں انٹرنیٹ کی ہیئت ہی بدل جائے گی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سی حکومتیں انٹرنیٹ پر ریاستی سنسر شپ کو مفید سمجھتے ہوئے ایسا کر رہی ہیں اور بہت سی انٹرنیٹ کمپنیاں بھی اپنے کارروبای اہداف کے فروغ کے لیے ان کوششوں میں اِن حکومتوں کا ساتھ دے رہی ہیں۔ حال ہی میں سامنے آنے والی اوپن نیٹ انیشئٹو (او این آئی) کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں انٹرنیٹ پر ریاستی سنسرشپ بڑھ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جن ممالک میں انٹرنیٹ مواد کی جانچ یا سنسرشپ کی جا رہی ہے ان میں بھارت، پاکستان، چین، ایران، شام، لیبیا، اردن، مراکش، سعودی عرب، برما، کئی وسط ایشیائی اور خلیجی ریاستیں شامل ہیں۔ ادارے کے مطابق انٹرنیٹ مواد کی جانچ یا سنسرشپ، خیالات کے اظہار کو دبانے کی کوششوں کا صرف ایک رخ ہے۔ تنظیم کے مشاہدے میں یہ بھی آیا ہے کہ سیاسی بنیادوں پر مختلف ویب سائٹوں اور نیٹ کیفوں کی بندش، دھمکیوں اور سزاؤں کے واقعات بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ مصر میں ایک بلاگر عبدالکریم نبیل کو فروری میں چار سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ انہیں یہ سزا مذہبِ اسلام کی توہین اور مصر کے صدر کو برا بھلا کہنے پر دی گئی۔ ان کے ساتھی مصری بلاگر امر غربیا نے بی بی سی کو بتایا: ’انٹرنیٹ پر لوگوں کو اپنے خیالات کے اظہار کی آزادی حاصل ہے۔ ویب پر کہیں زیادہ روشن خیال سوسائٹی جنم لے رہی ہے۔ لوگ بغیر کسی پابندی کے اپنی بات کہہ دیتے ہیں یہ ایک قدرتی طریقہ ہے جس سے کچھ لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے‘۔ ایمنٹسی کی کانفرنس جس کا عنوان ہے،’ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ انٹرنیٹ ایک بری چیز ہے: سائبرسپیس میں آزادی اظہار کی جدوجہد‘۔ اس میں کئی معروف شخصیات جن میں وکی پیڈیا کے بانی جمی والس بھی شامل ہیں، شرکت کریں گے۔ اس کانفرنس کا انعقاد ایمنسٹی انٹرنشینل کی ویب سائٹ کا ایک سال |
اسی بارے میں 06: انٹرنیٹ صارفین اور سنسر شپ کا سال31 December, 2006 | نیٹ سائنس انٹرنیٹ سنسرشپ میں اضافہ18 May, 2007 | نیٹ سائنس چین: انٹرنیٹ پر کنٹرول کی کوششیں26 April, 2007 | نیٹ سائنس انٹرنیٹ پر آزادیِ اظہار کو خطرہ 28 October, 2006 | نیٹ سائنس انٹرنیٹ کنٹرول پر چین کا دفاع16 February, 2006 | نیٹ سائنس پاکستان میں انٹرنیٹ کا مستقبل14 August, 2005 | نیٹ سائنس انٹرنیٹ کانظام چلانے پر اختلاف19 July, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||