BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 September, 2006, 10:10 GMT 15:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سمارٹ ون‘ چاند سے ٹکرا گیا
سائنسدانوں کو امید ہے کہ سمارٹ ون کے نتائج سے چاند کی سطح کو سمجھنے میں بہتری آئی گی
یورپ کی خلائی ایجنسی کا چاند پر بھیجا جانے والا پہلا سیٹلائیٹ ’سمارٹ ون‘ انتہائی کامیابی سے چاند کی سطح سے ٹکرایا ہے۔ اس ٹکراؤ سے چاند کی سطح پر گرد کے بادل نظر آئے ہیں۔

سمارٹ ون سے حاصل نتائج سے سائنسدان اس بات کا اندازہ لگائیں گے کہ آیا کبھی چاند زمین کا حصہ رہا ہوگا یا نہیں۔

اس خلائی مشن کا بنیادی مقصد ایک نئے، سستے اور آگے دھکیلنے کے انتہائی موثر نظام، جسے آیون انجن کا نام دیا گیا ہے، کی جانچ کرنا ہے۔ اگرچہ اس نظام نے خلائی جہاز کو بہت ہی سست روی سے آگے دھکیلا ہے۔

اس خلائی جہاز کے چاند کی سطح سے ٹکرانے کی رفتار سات ہزار دو سو کلو مینٹر فی گھنٹہ تھی۔ گرینج کے معیاری وقت کے مطابق تین ستمبر کو خلائی جہاز پانچ کر بیالیس منٹ پر چاند کے آتش فشانی میدان سے ٹکرایا۔

چاند کے آتش فشانی میدان سے ٹکراؤ، جسے سائنسدانوں نے ’لیک آف ایکسیلینس‘ کا نام دیا تھا، کو زمین پر بیٹھے مشاہدہ کاروں نے دیکھا اور سائنسدانوں کو امید ہے کہ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں اٹھنے والی گرد اور ٹکڑے چاند کی سطح کے ارضیاتی مرکب کو سمجھنے میں مددگار ہوں گے۔

جیسے ہی خلائی جہاز چاند کی سطح سے ٹکرایا جرمنی میں واقع یورپی خلائی ایجنسی کا مشن کنٹرول سینٹر تالیوں سے گونج اٹھا۔ خلائی مشن کے چیف آپریشن افسر اوکٹیوو کمینو بلا اختیار چلا اٹھے، ’یہ ہو گیا۔ ہم ’لیک آف ایکسیلینس‘ پر پہنچ گئے۔ ہم نے خلائی جہاز کو چاند کی سطح پراتار لیا‘۔

 چاند کے آتش فشانی میدان سے ٹکراؤ، جسے سائنسدانوں نے ’لیک آف ایکسیلینس‘ کا نام دیا تھا، کو زمین پر بیٹھے مشاہدہ کاروں نے دیکھا اور سائنسدانوں کو امید ہے کہ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں اٹھنے والی گرد اور ٹکڑے چاند کی سطح کے ارضیاتی مرکب کو سمجھنے میں مددگار ہوں گے۔

اس کے چند منٹ بعد ہی کنٹرول روم کی وڈیو سکرین پر اس ٹکراؤ کا انتہائی روشن نظارہ دکھائی دیا۔ اس امیج کو ہوائی کی ’ماؤنٹ کیا‘ پر نصب کینیڈا فرانس ہوائی ٹیلی سکوپ کی مدد سے اتارا گیا۔

مشن مینیجر گیرہارڈ شیوہیم کا کہنا تھا کہ یہ ایک انتہائی اہم مشن تھا جس میں کامیابی ہوئی اور اب یہ ختم ہو گیا۔

چاند کے مدار کے گرد اپنے مشن کے دوران اس خلائی جہاز نے اس کی سطح کا جائزہ لیا اور ہائی ریزولیوشن کی تصاویر اتاریں۔ سمارٹ ون نے اپنے خلائی مشن کے دوران چاند کی کیمیائی بناوٹ کے تفصیلی نقشے بھی تیار کیے ہیں۔

سمارٹ ون کو تین سال قبل ستمبر دو ہزار تین میں فرانس سے ایک راکٹ کے ذریعے زمین کے مدار میں داخل کیا گیا تھا۔ سمارٹ ون آیون انجن کی مدد سے چودہ ماہ کے دوران انتہائی سست دوری سے چاند کے مدار میں داخل ہوا یہاں تک وہ چاند کی کشش ثقل کے دائرے میں داخل ہو گیا۔

خلائی جہاز کا انجن برقی ذرات کی بڑی مقدار جنہیں آیون ( ایٹم کا مجموعہ جس میں ایک یا زیادہ الیکٹران داخل یا نکال دیئے گئے ہوں) پیدا کرنےکے لیئے مشین پر نصب سولر پینلز کی مدد سے بجلی حاصل کرتا ہے۔ انجن خلائی جہاز کو آگے دھکیلنے کے لیے انتہائی کم قوت پیدا کرتا ہے تاہم اس کے لیئے اسے زینون گیس کے محض اسی کلو میٹر کی ضرورت پڑتی ہے۔

 سمارٹ ون کو تین سال قبل ستمبر دو ہزار تین میں فرانس سے ایک راکٹ کے ذریعے زمین کے مدار میں داخل کیا گیا تھا۔

سائنسدانوں کو امید ہے کہ آیون انجن مستقبل میں سیاروں کے درمیان سفر یعنی خلائی سفر کے لیئے استعمال کیا جائے گا۔ ان خلائی مشنز میں عطارد کی طرف بھیجا جانے والا بی پی کولمبو مشن بھی شامل ہے۔

سمارٹ ون میں نصب ایکسرے اور طیفی ضیاء پیما یا سپیکٹرو میٹرز کی مدد سے چاند کی ارضیاتی ہییت کے متعلق معلومات اکٹھی کی گئی ہیں اور سائنسدانوں کو امید ہے کہ ان معلومات کی مدد سے چاند کی سطح سے متعلق مشاہدے میں وسعت پیدا ہو گی اور چاند کی تشکیل سے متعلق مفروضوں کی جانچ میں بھی مدد ملے گی۔

سنیچر کو مشن کنٹرولرز نے خلائی جہاز کے مدار کو کوئی چھ سو کلو میٹر بلند کر دیا تاکہ جہاز آتش فشانی میدان کے ابھرے کناروں سے نہ ٹکرا جائے۔

اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو سمارٹ ون وقت سے پہلے چاند کی سطح سے ٹکرا جاتا اور اس تصادم کا مشاہدہ کرنا مشکل یا ناممکن ہو جاتا۔ یہ کام سینچر کو انتہائی سرعت سے کیا گیا اور چیف آپریشن کمینو کا کہنا تھا کہ’اس دوران ہم انتہائی دباؤ میں رہے‘۔

سمارٹ ون کیوب جس کی پیمائش دونوں طرف سے کوئی ایک میٹر ہوگی، نے چاند پر پہنچنے کے لیئے براہ راست راستے کی جگہ طویل راستے کا انتخاب کیا اور نتیجے میں اسے سو ملین کلو میٹر کا اضافی سفر کرنا پڑا۔ تاہم یورپی خلائی ایجنسی کو یہ خلائی مشن ایک عام خلائی مشن کی نسبت ایک سو چالیس ملین ڈالر سستا پڑا۔

شٹل کی جگہ اورین
ناسا نے نئے خلائی طیارے بنانے کا ٹھیکہ دیا ہے
اوریننئی چاند گاڑیاں
ناسا نے خلائی جہازوں کا ٹھیکہ دے دیا
اسی بارے میں
شمسی بادبان خلائی مشن
22 June, 2005 | نیٹ سائنس
خلائی شٹل بار میں خرابی
12 July, 2005 | نیٹ سائنس
خلائی شٹل مشن پر روانہ
26 July, 2005 | نیٹ سائنس
خلائی جہاز مریخ کے مدار میں
11 March, 2006 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد