نئی چاندگاڑیاں بنانے کا ٹھیکہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کئی تنظیموں کے مالی اشتراک کو، جس کی قیادت لاک ہیڈ مارٹن کر رہی ہے، انسانوں کو چاند پر پہنچانے کے لیئے خلائی جہاز بنانے کا ٹھیکہ مل گیا ہے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا نے اس گروپ کو کئی ارب ڈالر کا ٹھیکہ دیا ہے تا کہ وہ ’اورین‘ نامی خلائی گاڑی بنائے جو کہ موجودہ خلائی شٹل کے سنہ دو ہزار دس میں ریٹائر کیئے جانے پر اس کی جگہ سنبھال سکے۔ ناسا اپنی موجودہ خلائی شٹل کی شکل بھی بدلنا چاہتا ہے۔ اس کے پر ختم کر دیے جائیں گے اور دوبارہ وہی کیپسول کی ساخت کی خلائی گاڑی استعمال کی جائے گی جس پر انسان پہلی دفعہ چاند پر اترا تھا۔ ہوائی جہاز بنانے کی بڑی کمپنی بوئنگ اور ایک دوسری کپمنی ’نورتھروپ گرمن‘ نے بھی مشترکہ طور پر مستقبل کی خلائی شٹل بنانے کی بولی میں حصہ لیا تھا لیکن کامیابی اس گروپ کو ملی جس کی قیادت لاک ہیڈ کر رہی ہے۔ ’اورین‘ نامی سلسلے کی پہلی خلائی گاڑیاں سنہ دو ہزار چودہ تک اڑنے کے لیئے تیارہو جائیں گی۔ جس راکٹ کے ذریعے اورین کو زمین سے بھیجا جائے گا وہ ناسا خود بنا رہا ہے۔ بلکہ ناسا دو قسم کے راکٹ بنا رہا ہے، ایک وہ جو اورین اور اس کے اندر بیٹھے چھ خلاء بازوں کو لے کر جائے گا اور دوسرا وہ جس میں وہ تمام سازوسامان اور آلات ہوں گے جو خلاء بازوں کو چاند پر اترنے کے لیئے درکار ہوں گے۔ ناسا کا خیال یہ ہے کہ ان دو حصوں کو زمین کے مدار کے اندر جوڑا جائے گا اور اس کے بعد یہ گاڑی چاند کی جانب روانہ ہو جائے گی۔ لاک ہیڈ مارٹن کارپوریشن دفاعی ٹھیکے حاصل کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ یہ کمپنی کمرشل اور فوجی سیاروں کے علاوہ ’اٹلس‘ سلسلے کے راکٹ بھی بناتی ہے۔ واضح رہے کہ سنہ دو ہزار تین میں خلائی شٹل کے تباہ ہو جانے کے بعد سے امریکہ کی خلائی پالیسی میں تبدیلی آئی ہے۔تب سے صدر جارج بش خلائی سفر کی دنیا میں نئے تخیل کی خواہش کا اظہار کرتے رہے ہیں، ایک ایسا خلائی سفر جو انسان کو زمین کے اپنے مدار اور بین الاقوامی خلائی سٹیشنوں سے بھی آگے لیجائے جہاں سے وہ دوبارہ چاند اور اس سے آگے مریخ پر جا سکے۔ امریکہ کے علاوہ روس اور یورپی ممالک بھی ایک خلائی ٹرانسپورٹ سسٹم بنانے کا سوچ رہے ہیں جس سے انسان کا خلاء میں آنا جانا آسان ہو سکے۔ یہ ممالک آجکل ایک تحقیق میں مصروف جس کا حتمی نتیجہ ایک راکٹ اور کیپسول پروگرام ہو سکتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس پروگرام میں روسی ’سویز‘ اور یورپی ’اریان‘ ٹیکنالوجی، دونوں کے بہترین پہلو اکھٹے ہو سکتے ہیں۔ |
اسی بارے میں خلائی سفر کے لیئے نئے اورین طیارے01 September, 2006 | نیٹ سائنس ناسا خلائی شٹل کی روانگی مؤخر15 March, 2006 | نیٹ سائنس خلائی جہاز مریخ کے مدار میں 11 March, 2006 | نیٹ سائنس ایک کروڑ دس لاکھ پاونڈ کا خلائی سفر03 October, 2005 | نیٹ سائنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||