خلائی جہاز مریخ کے مدار میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب بھیجا جانے والا خلائی جہاز مریخ کے مدار میں کامیابی سے پہنچ گیا۔ خلائی جہاز نے مریخ کے مدار میں پہنچنے کا پیچیدہ عمل کامیابی سے مکمل کرلیا ہے جس کے بعد وہ مریخ کے گرد چکر لگا سکے گا۔ خلائی جہاز جسے مارس ریکوننینس آربیٹر (ایم آر آو) کا نام دیا گیا ہے، نے سیارے کے مدار میں داخل ہونے کے لیے اپنی رفتار کم کر کے اٹھارہ ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک لے آیا تاکہ اسے مریخ کشش ثقل پکڑ سکے۔ ایم آر آو ابھی مریخ کا ایک چکر پینتیس گھنٹوں میں طے کرے گا لیکن اگلے چھ مہینوں میں وہ مریخ کے اتنا قریب پہنچ جائے گا جب وہ مریخ کا ایک چکر صرف دو گھنٹوں میں پورا کر سکے گا۔ مریخ کے مدار تک پہنچنے کے لیے خلائی جہاز نے تیس کروڑ میل کا سفر طے کیا ہے۔ آیم آر آو کے مریخ کے مدار میں داخل ہونے کے عمل کو سائنسدان بہت بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس سے پہلے کئی ایسی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ اس خلائی جہاز بھی آدھے گھنٹے تک زمین سے مواصلاتی منقطح رہا لیکن بعد یہ جڑ گیا۔ ایم آر او کو بھیجنے کا مقصد اس بات کا پتہ چلانا ہے کہ کیا مریخ کی سطح پر پانی ہے یا نہیں اور کیا کبھی یہاں زندہ مخلوق پائی جاتی تھی۔ سائنسدانوں کو ابھی تک مریخ پر زندگی کے آثار کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ اس خلائی جہاز میں مریخ پر پانی کے آثار کا پتہ لگانے کے لیے سطح سے نیچے دیکھنے کی بھی صلاحیت ہے۔ ناسا کے سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ ایم آر آو نومبر کے مہینے تک مریخ کی ایسی صاف تصویریں بھی بھیج سکے گا جو اس پہلے کبھی نہیں آئی تھیں۔ | اسی بارے میں سرخ سیارہ مریخ زمین کےقریب آگیا30 October, 2005 | نیٹ سائنس مریخ:روبوٹ کو نکالنے کی کوشش10 May, 2005 | نیٹ سائنس مریخ کیلیے نیا یورپی خلائی مشن09 April, 2005 | نیٹ سائنس سرخ سیارہ مریخ زمین کےقریب آگیا15 November, 2005 | نیٹ سائنس مریخ پر جما ہوا سمندر ہے 22 February, 2005 | نیٹ سائنس فینکس: مریخ پر نئے مشن کی اجازت04 June, 2005 | نیٹ سائنس مریخ پر برف کی جھیل30 July, 2005 | نیٹ سائنس مریخ کے لیے نئے آربیٹر کی روانگی 13 August, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||