مریخ کے لیے نئے آربیٹر کی روانگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مریخ کی جانب نئے آربیٹر نے اپنے سفر آغاز کر دیا ہے یہ سرخ سیارے کی سطح پران تمام عوامل کا مشاہدہ کرےگا جو پانی کی موجودگی کے حوالےسے اہم تصور کیے جاتے ہیں۔ آربیٹر جمعہ کو برطانوی وقت کے مطابق بارہ بج کرتینتالیس منٹ پر روانہ ہوا۔ اس کی روانگی میں کچھ مشکلات کے باعث دو دن کی تاخیر ہوئی ہے۔ نیا آربیٹر جسےمارس ریکوننینس آربیٹر (ایم آر او) کا نام دیا گیا ہے اس کی تیاری میں سات سو بیس ملین ڈالر کےاخراجات آئے ہیں۔اس کا ہجم ایک چھوٹی بس کے برابر جبکہ وزن بیس ہزار کلو گرام ہے۔ آربیٹر مریخ کےمدار میں اگلے سال مارچ تک داخل ہوجائے گا۔ اس کو اپنے مشن کی تکمیل میں چار سال لگیں گے۔ اس میں نصب حساس کیمرے مریخ کی واضح تصاویر اتاریں کر امریکی خلائی ادارے ناسا کو بھیج سکیں گے۔ اس پر بہت حساس نوعیت کے آلات نصب کیے گیے ہیں جو اس سے پہلے اس سرخ سیارے پر نہیں بھیجے گئے۔ اب تک مریخ پر بھیجا جانے والا یہ سب سے بڑا آربیٹر ہے۔ ان کیمروں کی مدد سے سانئسدان اس سیارے کر ساخت اور بناوٹ کا مطالعہ کرسکیں گے جو اس سیارے کی سطح پر پانی کی موجودگی میں مدد دے سکے گا۔ اس خلائی جہاز میں نصب راڈار مریخ کی سطح کے نیچے پانی کے ذخیرہ کا پتہ لگائے گا اور یہ اس کی سطح پر مستقبل میں بھیجےجانےوالے خلائی مشنوں کے لیے ہموار سطحوں کو بھی تلاش کرے گا۔ ناسا میں مریخ کےاس تلاش کےمشن کے ڈائریکٹر ڈوگلاس میک کیواسٹن کا کہنا ہے کہ آربیٹر کی روانگی مریخ پر ہماری تلاش کے مشن کا اگلا مرحلہ ہے۔ یہ خلائی جہاز مریخ کی ساخت اور اس کی بناوٹ کا مشاہدہ کرے گا اور مستقبل میں بھیجے جانے والی خلائی مشنوں کے لیےطاقت ور مواصلاتی نشریات کےذریعے کےطور پرکام بھی کرے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||