سرخ سیارہ مریخ زمین کےقریب آگیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مریخ اتوار کی صبح زمین کے قریب آ گیا اور دونوں سیاروں کے درمیان صرف چار کروڑ اکتیس لاکھ میل کا فیصلہ رہ گیا۔ مریخ آئندہ تیرہ سال تک دوبارہ زمین کے اتنا قریب نہیں آئے گا۔ موسم کی خرابی کی وجہ سے فلکیات میں دلچسپی رکھنے والے مریخ کو نہیں دیکھ سکے ہوں گے۔ لیکن طاقتور دوربین رکھنے والوں کو مریخ کی سطح نظر آئی ہوگی۔ ماہرین کے مطابق سیارے کا بہترین نظارہ روشنیوں سے دور دیہاتی علاقے سے کیا جا سکتا ہے۔ مریخ کے جنوبی حصے پر موسم گرما ہے اور وہاں تیز طوفانوں کی وجہ سے اس کی سطح کا شاید بغور جائزہ نہ لیا جا سکے۔ شاہی رسدگاہ سے تعلق رکھنے والے ماہر فلکیات ڈاکٹر رابرٹ میسی نے کہا کہ مریخ اگلے دو ماہ تک دیکھا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ مریخ سرخی مائل ہونے اور قریبی اجسام فلکی سے بڑا نظر آنے کی وجہ سے پہچانا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا مریخ اور زمین کے قریب آنے کی وجہ سے ماہرین کو اس کی سطح کا جائزہ لینا کا موقع ملا ہے۔ ڈاکٹر میسی نے بتایا کہ حال میں ایسے شواہد سامنے آئے ہیں کہ مریخ کا درجہ حرارات زیادہ تھا اور یہ نمی رکھنے والا سیارہ تھا، گو ایسی صورتحال مختصر عرصے کے لیے ہی رہی ہوگی۔ اگست دو ہزار تین میں مریخ زمین سے صرف تین کروڑ چھیالیس لاکھ میل کے فاصلے پر آگیا تھا۔ مریخ اس سے پہلے ساٹھ ہزار سال میں زمین کے اتنا قریب نہیں آیا تھا۔ مریخ اور زمین کے درمیان اوسط فاصلہ چودہ کروڑ میل ہے۔ | اسی بارے میں مریخ پر جما ہوا سمندر ہے 22 February, 2005 | نیٹ سائنس فینکس: مریخ پر نئے مشن کی اجازت04 June, 2005 | نیٹ سائنس مریخ پر برف کی جھیل30 July, 2005 | نیٹ سائنس مریخ کے لیے نئے آربیٹر کی روانگی 13 August, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||