دنیا کا خطرناک ترین جانور کون سا ہے؟

،تصویر کا ذریعہAFP
آپ کے خیال میں دنیا کا خطرناک ترین جانور کون سا ہے؟ شارک؟ چیتا؟ یا پھر مگرمچھ؟
رواں ہفتے آسٹریلیا میں ایک شخص کو مگرمچھ نے ہلاک کر دیا اور اس کا دوست تین گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد اپنی جان بچا سکا۔
مگرمچھ خاصے خطرناک ہوتے ہیں، وہ اوسطاً سالانہ 1000 افراد کو ہلاک کرتے ہیں۔ لیکن دنیا کا خطرناک ترین جانور حجم میں خاصا چھوٹا ہے اور وہ ہے مچھر۔
دنیا کے خطرناک ترین جانوروں کے بارے میں جانیے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
مچھر
عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال تقریباً سات لاکھ 25 ہزار افراد مچھر سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے ہلاک ہوتے ہیں۔ صرف ملیریا 20 کروڑ افراد کو متاثر کرتا ہے جن میں سے اندازاً چھ لاکھ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ مچھر ڈینگی بخار، زرد بخار اور دماغ کی سوزش کا باعث بھی بنتے ہیں۔
سانپ
ایک اندازے کے مطابق سانپ سالانہ 50 ہزار افراد کی موت کا سبب بنتے ہیں۔ دنیا کا سب سے زہریلا سانپ انلینڈ ٹائیپن ہے جو ویسٹرن ٹائیپن بھی کہلاتا ہے۔ اس کے زہر سے انسان کی 45 منٹ کے اندر موت واقع ہو سکتی ہے۔ انلینڈ ٹائیپن کے ڈسے ہوئے 80 فیصد افراد کی موت ہو جاتی ہے۔ لیکن یہ سب سے بڑا قاتل نہیں کیونکہ یہ انسانوں کو شاذ و نازر ہی کاٹتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہHunter Reptile Rescue
سئے کے کانٹوں جیسی جلد والے سانپ کو ’سا سکیل وائپر‘ کہا جاتا ہے۔ اس کا شمار دس زہریلے ترین سانپوں میں نہیں ہوتا اور اس کے کاٹے ہوئے صرف دس فیصد افراد کی موت ہوتی ہے۔ لیکن سے آباد علاقوں کے قریب رہتا ہے اور بہت تیزی سے کاٹتا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق سا سکیل وائپر سے سالانہ پانچ ہزار افراد کی موت ہوتی ہے، جو کسی بھی دوسرے قسم کے سانپ کے کاٹنے سے ہونے والی اموات سے کہیں زیادہ تعداد ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انلینڈ ٹائیپن کا آبائی گھر وسطی آسٹریلیا ہے جبکہ سا سکیل وائپر پاکستان، انڈیا، سری لنکا، مشرق وسطی کے کچھ حصوں اور افریقہ میں بھی پایا جاتا ہے۔ کریٹ نسل کے سانپوں کے شمار بھی دنیا کے خطرناک ترین جانوروں میں ہوتا ہے جو مشرقی ایشیا میں پائے جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
کتے
انسان کے سب سے اچھے دوست؟ شاید، لیکن انسانیت کے نہیں۔ ایک اندازے کے مطابق باؤلے کتے سالانہ 25 ہزار افراد کی موت کا باعث بنتے ہیں۔
وہ ممالک جہاں آوارہ کتوں کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے بشمول انڈیا، سب سے زیادہ متاثرہ ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 55 ہزار سالانہ اموات میں 20 ہزار اموات باؤلے کتوں کے کاٹنے سے انڈیا میں ہوتی ہیں، جن میں بیشتر نشانہ بچے بنتے ہیں جو متاثرہ کتوں کی زد میں آتے ہیں۔
محض کتے کے کاٹنے سے بہت کم اموات ہوتی ہیں۔ اس بارے میں مصدقہ اعداد و شمار موجود نہیں ہے تاہم ایک اندازے کے مطابق امریکہ میں سالانہ 45 لاکھ کتے کاٹتے ہیں اور ان میں 30 فیصد افراد کی موت ہوتی ہے۔

سیسی مکھی یا خون چوسنے والی مکھی
سیسی مکھی عام مکھی کے مقابلے میں چھوٹی ہوتی ہے۔ یہ اپنے لمبے ڈنگ سے جانوروں اور انسانوں کا خون چوستی ہے۔
یہ مکھی افریقی ٹریپانوسومیاسس نامی بیماری کا باعث بنتی ہے جسے سلیپنگ سکنیس یا سونے کی بیماری بھی کہا جاتا ہے۔ اس بیماری سے بخار، سر درد، جوڑوں کا درد، قے، دماغ کی سوجن اور سونے میں مشکل ہوتی ہے۔ سب صحارا خطے میں 20 ہزار سے 30 ہزار افراد ہر سال اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس بیماری سے دس ہزار افراد کی موت ہوتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
مگرمچھ
ضروری نہیں کہ مگرمچھ انسانوں پر حملہ کریں لیکن وہ موقع ملنے پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ صرف افریقہ میں ہر سال مگر مچھوں کی جانب سے انسانوں پر حملوں کے کئی سو واقعات سالانہ پیش آتے ہیں، جن میں سے نصف سے زائد جان لیوا ثابت ہوتے ہیں لیکن اس کا انحصار حملہ کرنے والے مگرمچھ کی نسل پر ہے۔ بہت سے حملے دور دراز کے علاقوں میں ہوتے ہیں اور ان کے بارے میں زیادہ رپورٹ نہیں کیا جاتا۔
دنیا بھر میں مگرمچھ سالانہ ایک ہزار انسانوں کی جان لیتے ہیں، یہ تعداد شارک کے حملوں سے مرنے والوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
دریائی گھوڑا
اس بے ڈھنگے جانور کا شمار زمین پر خطرناک ترین ممولیہ جانوروں میں ہوتا ہے جو افریقہ میں سالانہ تقریباً پانچ افراد کی موت کے منہ میں دھکیلتا دیتا ہے۔ دریائی گھوڑے جارحانہ مخلوق ہیں اور ان کے بہت تیز دانت ہوتے ہیں۔
اور آپ اس کے دانتوں میں پھنسنا نہیں چاہیں گے، یہ انسان کو کچل سکتے ہیں۔







