مگرمچھ کی آنکھ گھات لگانے کے لیے بنی ہے

محققین کا کہنا ہے کہ مگرمچھ سر کو گھمائے بغیر بھی کناروں تک اچھی طرح دیکھ پاتے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنمحققین کا کہنا ہے کہ مگرمچھ سر کو گھمائے بغیر بھی کناروں تک اچھی طرح دیکھ پاتے ہیں

ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ مگرمچھ کی آنکھ ایسی قدرتی صلاحیت سے بہرہ ور ہوتی ہے جو پانی کی سطح سے شکار پر نظر رکھنے میں مہارت رکھتی ہیں۔

مگرمچھ کی آنکھوں میں پایا جانے والا فوویا (آنکھ کا وہ حصہ جو تیز بصارت کا ذمہ دار ہوتا ہے) دائرہ نما ہونے کی بجائے افقی ہوتا ہے۔

آ‎سٹریلوی محققین کا کہنا ہے کہ اسی خصوصی صفت کی وجہ سے مگرمچھ اپنے سر کو ہلائے بغیر بھی کناروں تک اچھی طرح دیکھ پاتا ہے۔

ٹیم میں شامل ویسٹرن آ‎سٹریلیا میں پی ایچ ڈي کے طالب علم نکولس نگلو کا کہنا تھا کہ ’فوویا عام طور پردۂ بصارت کے مرکز میں واقع ہوتا ہے اور اس کی شکل دائرہ نما ہوتی ہے۔ اس سے جانوروں کو ایک چھوٹے سے حصے ہی میں روشن اور صاف بصارت مہیا ہوتی ہے۔ لیکن مگرمچھوں میں فوویا ریٹینا کے درمیان میں تھوڑا پھیلا ہوا ہوتا ہے اور ان کی نگاہ جہاں تک بھی جاتی ہے وہاں تک انھیں بالکل صاف اور واضح طور پر نظر آتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAP

یہ نئی تحقیق ’ایکسپیریمینٹل بائیولوجی‘ نامی جریدے میں شائع کی گئی ہے۔

تحقیق کے مطابق اگرچہ مگرمچھوں کو پانی کے اندر دھندلا دکھائی دیتا ہے لیکن پھر بھی وہ اپنی آنکھوں کو پانی کے اندر دیکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

نکولس نگلو اور ان کی ٹیم نے میٹھے اور نمکین پانی میں پائے جانے والی اقسام کے مگرمچھوں پر تحقیق کی ہے۔